.

شامی بحران کے حل کے لیے بشارالاسد اقتدار چھوڑ دیں: برطانیہ

مستقبل میں بشارالاسد کو برطانیہ یا کوئی اور مغربی ملک قبول نہیں کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے شام میں گذشتہ 33 ماہ سے جاری بحران کے کسی پُرامن تصفیے کے لیے صدر بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ولیم ہیگ نے کویت سٹی میں وزیر خارجہ شیخ صباح خالد الصباح سے جمعہ کو مذاکرات کے بعد نیوز کانفرنس میں کہا: ''ہم ہمیشہ سے بہت واضح ہیں کہ شام میں جاری بحران کے حل کے لیے صدر بشارالاسد کی رخصتی ناگزیر ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اتنی زیادہ ہلاکتوں اور تباہی کے بعد تو یہ تصور کرنا بھی ناممکن ہے کہ ایک ایسی حکومت جو اپنے ہی عوام کا بڑے پیمانے پر قتل عام کررہی ہے، انھیں جبروتشدد کا نشانہ بنا رہی ہے، اس کو اقتدار میں رہنا چاہیے''.

ولیم ہیگ کا کہنا تھا: ''میرے خیال میں تو یہ تصور ناممکن ہے کہ صدر بشارالاسد مستقبل میں شام میں برسراقتدار رہ سکتے ہیں''۔برطانیہ کی جانب سے شامی صدر کی رخصتی کے مطالبے کا یہ اعادہ جنیوا میں 22 جنوری کو ہونے والی عالمی امن کانفرنس سے قبل کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''بشارالاسد کا برسر اقتدار رہنا امن کی راہ میں رکاوٹ ہے اور انھیں برطانیہ یا کوئی بھی اور مغربی ملک قبول نہیں کرے گا۔ اس لیے ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں''۔

برطانوی وزیرخارجہ نے شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد (ایس این سی) کو شامی عوام کا حقیقی نمائندہ قرار دیا۔ اس اتحاد کے سربراہ احمد جربا ہفتے کے روز کویت پہنچنے والے ہیں۔ اس خلیجی ریاست کا ان کا یہ پہلا دورہ ہے۔

کویتی وزیرخارجہ نے نیوزکانفرنس میں جنیوا دوم امن کانفرنس اور کویت میں جنوری کے وسط میں شام کے لیے منعقد ہونے والی امدادی کانفرنس سے قبل ایس این سی کے سربراہ کے دورے کو اہم قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ شامی حزب اختلاف جنیوا امن کانفرنس سے قبل صدر بشارالاسد کی رخصتی کی یقین دہانی کرانے کا مطالبہ کر رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ بشارالاسد اقتدار چھوڑ دیں اور ان کی جگہ ایک عبوری حکومت قائم کی جائے مگر اسد حکومت اس مطالبے کو مسترد کر چکی ہے اور وہ ایک سے زیادہ مرتبہ یہ کہہ چکی ہے کہ صدر کے مستقبل کے حوالے سے جنیوا میں ہرگز کوئی بھی بات چیت نہیں کی جائے گی اور اگر کوئی عبوری حکومت قائم ہوتی ہے تو اس کے سربراہ بشارالاسد ہی ہوں گے۔