.

ملائشیا: حکمراں جماعت کی انتخابی کامیابی کے لیے اسلامی اصلاحات

مالے نسل کے ووٹروں کی حمایت کے حصول کے لیے اقدامات کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوب مشرقی ایشیا میں واقع ملائشیا کی حکمراں جماعت نے اکثریتی آبادی مالے مسلمانوں کی حمایت کے حصول کے لیے بعض اسلامی اصلاحات نافذ کی ہیں جس پر مغربی میڈیا کے بعض ذرائع نے منفی تبصرے شروع کردیے ہیں۔

حکمراں جماعت یونائیٹڈ مالے قومی تنظیم (اُمنو) کی قیادت میں اتحاد کو مئی میں منعقدہ انتخابات میں شہری علاقوں کے نواح میں آباد مسلم مالے اور چینی ووٹروں کی حمایت سے محروم ہونے کی وجہ سے بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔

ملائشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے اسی ہفتے پارٹی کے سالانہ عام اجلاس کے دوران قدامت پسند حلقوں کے لیے بعض رعایتوں کا اعلان کیا ہے اور اپنی لبرل سماجی اصلاحات کو واپس لے لیا ہے۔ انھوں نے مالے نسل سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کی جماعت اُمنو اسلامی عقیدے کی محافظ ہے۔

نجیب رزاق نے ایک جانب تو ووٹروں کے دل لبھانے کے لیے یہ اقدامات کیے ہیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ ہی انھوں نے بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے جنوری سے بجلی کی قیمتوں میں بھی 15 فی صد اضافہ کردیا ہے۔

انھوں نے جمعرات کو اجلاس میں شریک مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''اُمنو گذشتہ کئی عشروں سے اسلام کے محافظ کا کردار ادا کرتی چلی آرہی ہے،اس نے اسلامی جامعات اور اعلیٰ تعلیم کے ادارے قائم کیے ہیں اور ملک میں اسلامی معیشت کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے''۔

سالانہ اجتماع میں جماعت کے سینیر لیڈروں نے حکومت پر زوردیا کہ وہ ملکی آئین کو تبدیل کرے اور سُنی اسلام کو ملک کا سرکاری مذہب قرار دے۔ ان کے اس مطالبے سے ایک یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ وہ ملک میں حال ہی میں شیعیت کے پھیلنے پر تشویش کا شکار ہیں۔

واضح رہے کہ مئی میں انتخابات کے بعد سے مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے اور نجیب حکومت کی جانب سے عیسائیوں پر لفظ اللہ نہ لکھنے کی پابندی سے متعلق عدالتی حکم کی حمایت کی وجہ سے بھی اس کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ عدالتی حکم میں عیسائیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اللہ کے بجائے خدا (گاڈ) کا لفظ اپنی تحریروں اور تقریروں میں استعمال کریں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ صدیوں سے لفظ اللہ لکھتے اور بولتے چلے آرہے ہیں۔

اُمنو کے ایک رکن پارلیمان نے گذشتہ ماہ ریاست کلنتان میں اسلامی فوجداری قانون کے نفاذ کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ اس ریاست میں حزب اختلاف کی جماعت پان ملائشین اسلامی جماعت (پاس) کی حکومت ہے۔ اُمنو نے سنگاپور کی سرحد کے نزدیک واقع ریاست جوہر میں گذشتہ ماہ ہفتہ وار تعطیل ہفتے کے روز سے تبدیل کر کے جمعہ کردی تھی۔

واضح رہے کہ ملائشیا کی 1957ء میں برطانیہ سے آزادی کے بعد سے اُمنو کی حکومت چلی آرہی ہے۔ یہ روایتی طور پر سیکولر اور کاروباری پالیسیوں کی حامل جماعت رہی ہے لیکن سابق نائب وزیراعظم انور ابراہیم کی قیادت میں پان ملائشین اسلامی جماعت کے احیاء اور 1999ء میں منعقدہ انتخابات میں اس کی نمایاں کامیابی کے بعد سے اُمنو مذہب پسند بن چکی ہے اور اس نے ملک کے اکثریتی آبادی مالے مسلمانوں کی حمایت کے حصول کے لیے اقدامات شروع کردیے تھے۔ اس سے مغربی ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کے بہ قول ملائشیا کے ایک اعتدال پسند اسلامی ملک ہونے کے امیج کو نقصان پہنچا ہے۔