.

ناروے کی دو بہنیں شام میں قید ہو گئیں

سولہ اور انیس سالہ لڑکیاں باغیوں کی مدد کیلیے آئی تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ناروے کی دو نو عمر بہنوں کے شام میں باغیوں کی مدد کے لیے موجود ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ یہ تصدیق دونوں لڑکیوں کے والدین نے اپنے وکیل کے ذریعے سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر کی ہے۔

دونوں بہنوں نے ماہ اکتوبر کے وسط میں اپنے اہل خانہ کی اجازت کے بغیر ملک چھوڑ دیا تھا اور شام پہنچ گئی تھیں۔ ان میں چھوٹی بہن جس کی عمر صرف 16 سال ہے زخمی ہو چکی ہے۔ وکیل کے مطابق انہیں واپس ناروے روانہ ہونے سے پہلے اس کی صحت ٹھیک ہونا ضروری ہو گا۔

شامی باغیوں کی مدد کو آنے والی دو بہنوں میں سے بڑی کی عمر 19 سال ہے۔ انہوں نے ماہ اکتوبر میں ناروے سے بھاگنے سے پہلے اپنے اہل خانہ کیلیے تحریری پیغام میں بتایا کہ وہ باغیوں کی مدد کی خاطر شام جا رہی ہیں۔

ان لڑکیوں کو ناروے حکومت نے انٹرپول کی مدد سے تلاش کرنے کی مہم شروع کر دی تھی۔ ان لڑکیوں کے والد نے میڈیا کو ماہ اکتوبر کے آخر میں بتایا کہ انہیں ایک پیغام موصول ہوا ہے۔ جس کے مطابق دونوں لڑکیوں کو باغیوں نے ان کی مرضی کے بغیر بند کر رکھا ہے۔

تاہم اب لڑکیوں کے والد کے وکیل گیر لپسٹیڈ کے ذریعے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ناروے سے تعلق رکھنے والی ان دونوں بہنوں کو جلد رہا کر دیا جائے گا۔

ناروے کے انٹیلی جنس ادارے کے مطابق ناروے کے 30 سے 40 افراد شام میں باغیوں کی مدد کیلیے جا چکے ہیں اور بشار رجیم کے خلاف لڑ رہے ہیں۔