.

یمنی وزارت دفاع کی عمارت پر حملے میں صدر ھادی کا بھتیجا ہلاک

ہلاکتوں کی تعداد 52 ہو گئی،167 زخمیوں کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی وزارت دفاع نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ جمعرات کے روز صنعاء میں وزارت کے ہیڈ کواٹرز پر ہونے والے حملے میں صدر مملکت عبد ربہ منصور ھادی کا ایک قریبی عزیز بھی مرنے والوں میں شامل ہے۔

یمنی وزارت دفاع کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر ھادی کا بھتیجا منصورالخضر محمد منصور اپنے ایک بیمار رشتے دار کے ساتھ وزارت دفاع کے ملٹری اسپتال میں موجود تھا۔ حملے کے وقت منصور خضر وزارت دفاع کے آڈیٹوریم میں تھا جو دھماکے کے باعث مارا گیا ہے۔

خیال رہے کہ جمعرات کے روز صنعاء میں وزارت دفاع کی عمارت پرایک خودکش بمبار نے بارود سے بھری کارعمارت سے ٹکرا دی تھی جس کے نتیجے میں کم سے 52 افراد ہلاک اور 167 زخمی ہو گئے تھے۔ زخمیوں میں سے 09 کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔

خودکش حملے میں وزارت دفاع کے زیرانتظام ملٹری اسپتال بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ دھماکے بعد فائرنگ بھی کی گئی، جس کے نتیجے میں اسپتال میں موجود چینی طبی عملے کے تمام افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

صنعاء سے العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق وزارت دفاع پرحملے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان دیر تک جھڑپیں اور فائرنگ کا بھی تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ حکام کے مطابق یمنی وزارت دفاع پر یہ اب تک کا خوفناک حملہ ہے جس میں اتنے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔