.

سعودی بزنس وویمنز کا ذاتی ڈرائیور کے لئے ویزے کا مطالبہ

ذاتی ڈرائیور ویزے کا حق فی الحال مطلقہ اور بیواؤں تک محدود ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی تاجر پیشہ اور تعلیمی شعبے سے وابستہ خواتین نے حکومت سے ذاتی ڈرائیور منگوانے کے لیے خصوصی ویزہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ اب تک حکومت کی جانب سے صرف بیواؤں اور مطلقہ عورتوں کو بیرون ملک سے ذاتی ڈرائیور منگوانے کے لیے ویزہ جاری کیا جاتا رہا ہے لیکن یہ ضرورت دیگر خواتین کی بھی ہو سکتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے الشرقیہ علاقے میں 50 خواتین نے وزیر برائے محنت و افرادی قوت ڈاکٹر عادل الفقیہ کے دفتر میں ایک متفقہ عرضداشت جمع کرائی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت انہیں بیرون ملک سے ذاتی ڈرائیور منگوانے کے لیے خصوصی ویزے جاری کرے۔ خواتین نے اپنی یاداشت میں موقف اختیار کیا ہے کہ انہیں اپنے کارباری اور ملازمتی امور کی انجام دہی کے لیے سفر کرنا پڑتا ہے۔ ذاتی ڈرائیور نہ ہونے کے باعث انہیں سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لہٰذا حکومت ویزہ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے انہیں بھی بیرون ملک سے ذاتی ڈرائیور منگوانے کا حق دے۔

درایں اثناء وزارت محنت نے خواتین کی درخواست کو متعلقہ محکمہ کے مجاز حکام کے حوالے کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس پر غور کے بعد مطالبے کی روبعمل ہونے کا تعین کریں۔ خواتین کو اپنا مطالبہ منظور ہونے کی پوری امید ہے۔ ریاض میں شاہ سعود یونیورسٹی میں حقوق نسواں اور تاریخ کی پروفیسر ڈاکٹر ھتون الفاسی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزارت محنت نے ان کی درخواست پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "میں یہ بات نہیں سجھ سکی کہ بیرون ملک سے ذاتی ڈرائیور منگوانے کے حوالے سے حکومت نے خواتین میں تفریق کیوں کی ہے۔ ذاتی ڈرائیور کی ضرورت تو ہر شعبہ زندگی سے وابستہ خواتین کو پڑتی ہے۔ اس میں کسی طبقے سے امتیاز برتنے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔"