.

لیبیا عسکریت پسندی سے دوسرا صومالیہ بنتا جا رہا ہے: نیجر

"طرابلس کو دہشت گردی سے پاک کرنے میں عالمی برادری مدد کرے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک نائیجیریا کے صدر ایسوفو نے اپنے ایک بیان میں لیبیا کی موجودہ سیکیورٹی صورت حال پرگہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی روز بروز بڑھتی وارداتوں کے باعث لیبیا دوسرا صومالیہ بنتا جا رہا ہے۔ عالمی برادری طربلس کودہشت گردی کا مرکز بننے سے روکنے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی"رائیٹرز" کے مطابق نیجر کے صدر نے ان خیالات کا اظہار پیرس میں ہونے والی "فرانس۔ افریقہ" سربراہ کانفرنس کے دوران ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں کے باعث لیبیا ایک ناکام ریاست بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایک روز قبل مشرقی لیبیا کے شہر بنغازی میں امریکی اسکول ٹیچر کی مسلح حملے میں ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

نائیجرین صدر نے خدشہ ظاہر کیا کہ لیبیا سلفی دہشت گردوں کے ہاتھ میں جا سکتا ہے جو ملک کو ایک نیا صومالیہ بنانا چاہتے ہیں۔ لیبیا میں سلفی شدت پسندوں کی کارروائیوں پرہمیں بہت دکھ ہے کیونکہ یہ لوگ روز مرہ کی بنیاد پر نہتے شہریوں کو قتل کر رہے ہیں۔ ہمیں اور عالمی برادری کو ہرقیمت پر لیبیا میں استحکام بحال کرنا ہے"۔

قبل ازیں جمعرات کی شام لیبیا کے بڑے شہر بنغازی میں شدت پسندوں نے ایک امریکی اسکول ٹیچر کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ قریبا ایک سال پیشتر انہی دنوں میں بنغازی میں شدت پسندوں نے امریکی سفارت خانے پر حملہ کر دیا تھا جس میں سفیر سمیت تین امریکی مارے گئے تھے۔

خیال رہے کہ نائیجیریا، لیبیا کے پڑوس میں واقع ہونے کے باعث سرحد پار سے ہونے والی دراندازی کا بھی شکار رہا ہے۔ نیجر حکومت کی جانب سے اسلامی شدت پسندوں نمنٹے کے اعلانات کے باوجود خطے میں القاعدہ اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کی کارروائیوں میں قابل ذکر کمی نہیں آسکی ہے۔

گذشتہ برس فرانسیسی فوج کی قیادت میں نائیجیریا اور دیگر ملکوں نے صومالیہ میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف ایک بڑی جنگ کا آغاز کیا تو وہاں سے عسکریت پسند پڑوسی ملکوں لیبیا اور نائیجیریا کی سرزمین میں منتقل ہونا شروع ہوگئے تھے۔