.

ایران اور 6 بڑی طاقتوں کے درمیان سوموار کو ویانا میں مذاکرات

جنیوا میں طے پائے عبوری سمجھوتے پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جنیوا میں طے پائے عبوری جوہری سمجھوتے کے بعد سوموار کو پہلی مرتبہ ویانا میں مذاکرات ہورہے ہیں اور ان میں اس سمجھوتے پر عمل درآمد پر غور کیا جائے گا۔

ایران کی خبررساں ایجنسی ایسنا نے اعلیٰ مذاکرات کار عباس عرقچی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''ہماری چھے ممالک اور یوری یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن کی ٹیم کے ساتھ ماہرین کی سطح کی بات چیت ہوگی''۔

انھوں نے کہا کہ اس موقع پر جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے نمائندے بھی موجود ہوں گے۔ویانا میں قائم یہ ادارہ ہی سمجھوتے پر عمل درآمد کی نگرانی کررہا ہے۔تاہم اس کے مستقل نمائندے ایران میں موجود نہیں ہیں۔البتہ اس کے معائنہ کار ایران کی حساس جوہری تنصیبات کا معائنہ کرتے رہتے ہیں۔

عباس عرقچی کا کہنا تھا کہ ایران کے بنک کاری اور پابندیوں سے متعلق امور کے ماہرین بھی مذاکرات میں موجود ہوں گے تا کہ جنیوا معاہدہ اپنے مقاصد حاصل کرسکے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کے ساتھ ایران کا گذشتہ ماہ جنیوا میں عبوری سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت ایران آیندہ چھے ماہ کے دوران افزودہ یورینیم کو پانچ فی صد کی سطح تک لائے گا اور اپنی بیس فی صد تک افزودہ یورینیم کو بیرون ملک منتقل کردے گا۔

اس سمجھوتے کے تحت ایران اضافی ایندھن کی تیاری کا تجربہ بھی نہیں کرے گا اور نہ مزید ایندھن پیدا کرے گا۔نیز وہ جوہری تنصیب میں باقی ماندہ آلات نصب نہیں کرے گا۔ وہ اپنے جوہری ری ایکٹر پر کام کرے گا اور نہ اس ری ایکٹر کی جگہ پر ایندھن یا بھاری پانی کو منتقل کرے گا۔

چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ جوہری تنازعے کے حل کے لیے طے پائے سمجھوتے کے تحت ایران یورینیم کو پانچ فی صد کی سطح سے زیادہ مصفیٰ کرنے کے پروگرام کو منجمد کردے گا۔اس کے بدلے میں اس پر عاید پابندیوں میں نرمی کردی جائے گی۔اس سمجھوتے کے بعد سے ایران کو قریباً سات ارب ڈالرز تک ریلیف ملا ہے اور مغربی ممالک نے اس پر عاید کردہ بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی کردی ہے۔