.

مصر: دستوری ریفرنڈم کی حمایت میں سلفیوں کی عوامی رابطہ مہم

سلفی مجلس شوریٰ کے 98 فیصد شیوخ کی نئے آئین کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سخت گیر مذہبی سلفی مسلک کی نمائندہ جماعتوں کے اتحاد "الدعوۃ السلفیہ" کی مرکزی مجلس شوریٰ نے مسلح افواج کی نگرانی میں تیار کیے گئے نئے دستور پر ریفرنڈم میں دستور کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حمایت کے ساتھ ساتھ سلفی ملک گیرعوامی رابطہ مہم بھی شروع کرنےکی تیاری کر رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سلفی مسلک کی جماعت الدعوۃ السلفیہ کی مجلس شوریٰ کے حالیہ اجلاس میں 98 فی صد ارکان نے نئے دستور پر ریفرنڈم میں "ہاں" کی حمایت کی۔

سلفی مسلک کی نمائندہ سیاسی جماعت "النور" کے سیکرٹری جنرل جلال مرہ کا کہنا تھا کہ پچاس رکنی نئے آئین ساز کمیشن نے جو آئین مدون کیا ہے اس میں اسلامی شریعت کے بنیادی اصولوں، انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی ضمانت فراہم کی گئی ہے۔

درایں اثناء حزب النور کی جانب سے نئے عبوری آئین کی حمایت کے لیے سوشل میڈٰیا پرایک مہم چلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ حزب النور کا کہنا ہے کہ جماعت شہریوں کوسماجی میڈٰیا کے ذریعے نئےآئین کی حمایت میں قائل کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام نئے دستور کی حمایت کرکے اس پرمہر تصدیق ثبت کریں۔ اس سلسلے میں جلد ہی عوام رابطہ مہم شروع کی جائے گی۔

نئےآئین کی حمایت میں حزب النور سوشل میڈیا کےعلاوہ ملک بھر میں بڑے بڑے عوامی اجتماعات بھی منعقد کرے گی۔ سلفیوں کے سیاسی چہرے 'حزب النور' کو ملک کے تمام سلفی مشائخ کی بھی حمایت حاصل ہے۔ تاہم سلفیوں کیی عوامی حمایت کا اندازہ جماعت کی عوامی طاقت کے مظاہروں سے ہوگا۔