.

اسرائیلی صدر شمعون پیریز ایرانی ہم منصب سے ملاقات کو تیار

ایران کو پوری دنیا کے لیے ایک جوہری خطرہ نہیں بننا چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے کہا ہے کہ وہ اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے ملاقات کو تیار ہیں۔

اسرائیل کے علامتی اختیارات کے حامل صدر نے حسن روحانی سے ملاقات کی خواہش کا اظہار اتوار کو ایک اقتصادی فورم کے موقع پر کیا ہے۔ان سے اس فورم میں سوال کیا گیا تھا کہ کیا ان کی ایرانی صدر سے ملاقات ممکن ہے؟ توانھوں نے اس کے جواب میں کہا کہ ''کیوں نہیں؟میرے کوئی دشمن نہیں ہیں۔یہ شخصیات نہیں بلکہ پالیسیوں کا سوال ہے۔مقصد دشمنوں کو دوستوں میں تبدیل کرنا ہے''۔

شمعون پیریز نے کہا کہ ''ایک وقت ایسا بھی تھا جب ہم (فلسطینی رہ نما) یاسر عرفات سے نہیں ملتے تھے لیکن جب تنظیم آزادیِ فلسطین (پی ایل او ) نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا تو پھر ہماری میل ملاقاتیں شروع ہوگئیں''۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمیں اپنی تمام تر توجہ اس بات کو یقینی بنانے پر مرکوز کرنی چاہیے کہ ایران پوری دنیا کے لیے ایک جوہری خطرہ نہ بنے''۔

واضح رہے کہ اسرائیل ایران کو جوہری قوت بننے سے روکنے کے لیے یک طرفہ فوجی حملے کی دھمکی دے چکا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری پروگرام کو رول بیک کرنے سے متعلق جنیوا میں طے پائے سمجھوتے کی شدید مخالفت کی ہے اور اس کو ایک بھیانک تاریخی غلطی قراردے کر مسترد کردیا ہے۔

دوسری جانب ایران اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا ہے اور اس کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے اپنے دورحکومت میں متعدد مرتبہ صہیونی ریاست کو نقشے سے مٹانے کی دھمکی دی تھی۔تاہم موجودہ صدر حسن روحانی کی جانب سے عہدہ سنبھالنے کے بعد یا اس سے پہلے صہیونی ریاست کے خلاف کوئی سخت بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی اسرائیل کے خلاف گاہے گاہے سخت بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔انھوں نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔انھوں نے دارالحکومت تہران میں باسیج ملیشیا کے کمانڈروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''صہیونی رجیم کے ستون لڑکھڑا رہے ہیں اور یہ تباہی سے دوچار ہونے والا ہے''۔