ڈھاکہ: جماعت اسلامی کے عبدالقادر ملا کے ڈیتھ وارنٹ جاری

کسی بھی وقت پھانسی دی جا سکتی ہے: سکیورٹی الرٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بنگلہ دیش کی متنازعہ جنگی جرائم کی عدالت کی جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کو سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کیلیے جیل حکام کو حکم جاری کر دیا ہے۔ اب بظاہر جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما کو پاکستانی فوج کی مدد کرنے اور پاکستان کو ٹوٹنے سے بچانے کیلیے کی گئی کوششوں کی پاداش میں پھانسی چڑھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی۔

تاہم بنگلہ دیش کے صدر کی طرف سے پھانسی کو موخر کرنے یا سزائے موت معاف کیے جانے کے باعث سزا وقتی طو پر یا مستقل طور پر ٹل سکتی ہے۔ دریں اثنا سپریم کورٹ آف بنگلہ دیش کی عدالتی مداخلت بھی سزا پر عمل درآمد کو ٹال سکتی ہے۔

عبدالقادر ملا جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ان مرکزی رہنماوں میں سے ایک ہیں جنہیں حسینہ واجد حکومت کی 2010 میں قائم کردہ متنازعہ جنگی جرائم کی عدالت نے چند ماہ پہلے سزائے موت سنائی ہے۔ ان سزا موت کے مستحق قرار پانے والوں میں نوے سال کی عمر کو چھونے والے پروفیسر غلام اعظم ، مولانا سیدی،اور مولانا مطیع الرحمان نظامی بھی شامل ہیں۔

دلچسپ بات ہے کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما پاک فوج کی مدد کرنے کے ''جرم '' میں پھانسی کی سزا پا رہے ہیں جبکہ پاکستان میں پاک فوج جماعت اسلامی کے امیر سے معافی کا مطالبہ کرتی نظر آئی ہے۔

عبدالقادر ملا کو پھانسی دیے جانے کا پروانہ جاری ہونے پر جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے ملک گیر ہڑتال کی کا ل دی ہے۔ سزا پر عمل درآمد کی صورت میں عبدالقادر ملا پہلے جماعتی رہنما ہوں گے جو بنگلہ دیش میں پاکستان کا ساتھ دینے پر سزا پائِں گے۔ جبکہ ان سے پہلے سزائے موت کے مستحق قرار پانے والے جیلوں میں بند ہیں۔

ڈھاکہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق موت کا پروانہ جاری ہونے کے بعد ملک بھر مین سکیورٹی انتظامات بہتر بنائے جا رہے ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے حامیوں کی طرف سے سخت ردعمل کا خطرہ ہے۔

واضح رہے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں بھی جنگی جرائم کی متنازعہ عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزاوں تنقید کرتی رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں