.

اردن:راسخ العقیدہ عالم دین ابو قتادہ کے خلاف ٹرائل کا آغاز

سکیورٹی عدالت میں مختصر کارروائی کے بعد مقدمے کی سماعت 24 دسمبر تک ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ بدر فلسطینی نژاد اردنی عالم دین ابو قتادہ کے خلاف عمان میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت قائم مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔انھوں نے اپنے اوپر عاید کردہ الزامات کو جھوٹ قراردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ قصوروار نہیں ہیں۔

ابوقتادہ کو جولائی میں برطانیہ سے واپسی کے بعد پہلی مرتبہ منگل کو عمان کی اسٹیٹ سکیورٹی عدالت میں ٹرائل کے لیے پیش کیا گیا ہے۔انھوں نے عدالت کے جج کو مخاطب ہوکر کہا:''آپ بہتر طور پر جانتے ہیں کہ میں قصوروار نہیں ہوں اور یہ الزامات جھوٹے ہیں''۔

جج نے مختصر کارروائی کے بعد مقدمے کی مزید سماعت 24دسمبر تک ملتوی کردی۔میڈیا کے نمائندوں کو مقدمے کی کارروائی سننے کی اجازت دی تھی لیکن انھیں ساتھ کیمرے لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اردن کے فوجی پراسیکیوٹر نے ابوقتادہ پر دہشت گردی کی کارروائیوں کی سازش کے الزام میں فرد جرم عاید کی تھی۔اگر عدالت انھیں قصوروار قرار دے دیتی ہے تو انھیں کم سے کم 15 سال قید بامشقت کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ نے اردن کے ساتھ ابو قتادہ کے منصفانہ ٹرائل سے متعلق معاہدہ طے پانے کے بعد ہی انھیں عمان کے حوالے کیا تھا۔اس معاہدے میں برطانیہ نے اردن سے یہ ضمانت طلب کی تھی کہ ملزم کے خلاف تشدد سے حاصل کردہ شواہد کو استعمال نہیں کیا جائے گا۔

تریپن سالہ ابو قتادہ اس وقت اردن کی انتہائی سکیورٹی والی جیل موقار میں زیر حراست ہیں۔اس جیل میں قریباً گیارہ سو قیدی بند ہیں۔ان میں زیادہ تر اسلامی جنگجو یا اسلامی جماعتوں کے کارکنان ہیں۔انھیں دہشت گردی کے مختلف الزامات کے تحت قصوروار قراردیا گیا تھا۔

ابوقتادہ اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر بیت لحم سے تعلق رکھتے ہیں۔اردن میں 1999ء اور 2000ء میں ان کے خلاف دہشت گردی کی سازشوں میں ملوث ہونے کے الزامات میں ان کی عدم موجودگی میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

اردن کی ایک عدالت نے ابوقتادہ کو 1999ء میں دہشت گردی کے کارروائیوں اور دارالحکومت عمان میں امریکی اسکول پر حملے کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں قصور وار قراردے کر سزائے موت سنائی تھی لیکن بعد میں ان کی اس سزا کو عمرقید بامشقت میں تبدیل کردیا گیا تھا۔اب ان کے خلاف یہی مقدمہ دوبارہ چلایا جا رہا ہے۔

وہ گذشتہ ایک عشرے کے دوران برطانیہ بدری سے بچنے کے لیے قانونی جنگ لڑتے رہے تھے۔وہ 1993ء سے برطانیہ میں مقیم تھے۔اس دوران انھیں متعدد مرتبہ جیل کی ہوا کھانا پڑی اور عدالتوں میں قانونی جنگ ہارنے کے بعد انھیں بالآخر برطانیہ سے بے دخل ہونا پڑا تھا۔

برطانیہ نے انھیں اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا اور انھیں ایک ہسپانوی جج نے ماضی میں القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کا ایک سینیر مشیر قراردیا تھا جبکہ برطانوی حکومت کے وکلاء نے ان کا تعلق القاعدہ کے ایک جنگجو زکریا موسوی سے بھی جوڑنے کی کوشش کی تھی۔القاعدہ نے برطانیہ کو انھیں اردن کے حوالے کرنے پر حملوں کی دھمکی تھی۔تاہم اس جنگجو تنظیم نے ہنوزاپنی اس دھمکی کو عملی جامہ نہیں پہنایا ہے۔