.

مفتیِ اعظم سعودی عرب کے قتل کی سازش پرمجرم کو 16 سال قید

دہشت گرد کے بیرون ملک سفر پر پابندی اور 40 درّے لگانے کی بھی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں خصوصی فوجداری عدالت نے مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ کے قتل کی سازش کے جرم میں ایک دہشت گرد کو قصور وار قرار دے کر سولہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے مجرم کے سفر پر پابندی عاید کردی ہے اور اس کو چالیس درے مارنے کی بھی سزا سنائی ہے۔عدالت کے جج نے ملزم کو تیرہ الزامات میں قصوروار قرار دیا ہے اور حکام کو اس کے نفسیاتی علاج کی بھی ہدایت کی ہے۔

اس مجرم پرعاید کردہ فرد جُرم میں کہا گیا ہے کہ وہ تکفیری عقیدے کا حامل تھا،اس نے القاعدہ میں شمولیت اختیار کی اور مفتی اعظم سعودی عرب سمیت متعدد معروف علماء ،قائدین اور بیورو آف انویسٹی گیشن اور پبلک پراسیکیوشن کے حکام پر حملوں کے لیے لوگوں کو بھرتی کیا تھا۔اس نے ادارہ تحقیقات کی جیلوں سے قیدیوں کو رہا کرانے کے لیے حملوں اور سعودی مملکت کی تیل کی تنصیبات پر بم حملوں کی سازش تیار کی تھی اور ماضی میں عراق کی جنگ میں حصہ لیا تھا۔