بنگلہ دیش:جماعت اسلامی کے رہ نما عبدالقادر ملاّ کو پھانسی

بیوی بچوں سے آخری ملاقات میں مطمئن،اسلامی تحریک کے لیے جان دینے پر فخر کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سرکردہ رہ نما عبدالقادر ملاّ کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

بنگلہ دیش کے نائب وزیرقانون قمرالاسلام نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پینسٹھ سالہ عبدالقادر ملاّ کو دارالحکومت ڈھاکا کی جیل میں مقامی وقت کے مطابق رات دس بج کر ایک منٹ پر تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے۔

اس سے پہلے جمعرات کی صبح بنگلہ دیش کی عدالت عظمیٰ نے جماعت اسلامی کے رہ نما کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کردی تھی جس کے بعد انھیں پھانسی دینے کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔انھیں بنگلہ دیشی کی جنگی جرائم کی خصوصی عدالت نے قتل ،آبروریزی اور دوسرے جنگی جرائم کے الزامات میں سزائے موت سنائی تھی۔وہ جنگی جرائم کے مقدمات میں پھانسی پانے والے پہلے رہ نما ہیں۔

بنگلہ دیشی حکام نے انھیں پھانسی دینے سے چند گھنٹے قبل ان کے بیوی بچوں سے ایک اور آخری ملاقات کروائی ہے۔ان کے بیٹے حسن جمیل نے اس ملاقات کے بعد بتایا کہ ''ان کے والد نے ملک میں اسلامی تحریک کے لیے شہید ہونے پر فخر کا اظہار کیا تھا اور وہ بہت مطمئن تھے''۔

حکومت نے عبدالقادر ملاّ کو پھانسی دینے سے قبل جیل کے باہر اور ڈھاکا بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے اور اہم مقامات پر نیم فوجی دستے بھی تعینات کردیے تھے۔

جماعت اسلامی اور حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں کے کارکنان نے سپریم کورٹ کے مختصر فیصلے کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے کیے تھے اور ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

عبدالقادر ملاّ کو اس سے پہلے منگل کی رات جنگی جرائم کے مقدمے میں پھانسی دی جانا تھی لیکن ایک جج نے انھیں تختہ دار پر لٹکانے سے صرف نوے منٹ قبل حکم امتناعی جاری کردیا تھا کیونکہ عالمی سطح پر حزب اختلاف کے لیڈروں کے خلاف 1971ء میں بنگلہ دیش کی پاکستان سے علاحدگی کی جنگ میں پاک فوج کاساتھ دینے والوں کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات کی شفافیت کے حوالے سے سوال اٹھائے جارہے ہیں۔

مصلوب عبدالقادر ملاّ کو متحدہ پاکستان کی حامی ملیشیا البدر کا لیڈر قراردیا گیا تھا۔انھیں 350 غیر مسلح شہریوں کے قتل سمیت قتل عام اورآبروریزی کے الزامات میں قصوروار قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی تھی۔ان کی ملیشیا البدر پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ اس نے مبینہ طور پر بنگلہ دیش کے قیام کے حامی پروفیسروں ،ڈاکٹروں ،لکھاریوں اور صحافیوں کا قتل کیا تھا۔بنگلہ دیشی پراسیکیوٹرز نے انھیں ''میرپور کا قصاب'' قرار دیا تھا۔

بنگلہ دیش کے سیکڑوں سیکولر مظاہرین نے عبدالقادر ملاّ کو پھانسی دیے جانے کی خبر پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے منگل سے ڈھاکا کے شاہ باغ چوک میں کیمپ لگا رکھا تھا اور وہ جماعت اسلامی کے رہ نما اور جنگی جرائم کے دوسرے مجرموں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کررہے تھے۔

دریں اثناء جماعت اسلامی پاکستان نے عبدالقادر ملا کو پھانسی لٹکانے کے خلاف جمعہ کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کرنے اور ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امیرجماعت اسلامی پاکستان سیّد منورحسن نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے مصلوب رہ نما کو شہید قراردیا ہے اور شہریوں سے ان کی غائبانہ نماز جنازہ میں بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔غائبانہ نمازجنازہ جمعہ کے بعد وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں کے علاوہ دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں ادا کی جائے گی۔

جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے عبدالقادرملا کو سُولی دیے جانے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ پاکستانی حکومت اور وزارت خارجہ اس معاملے میں اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہ نماﺅں کو پاکستان کو دولخت ہونے سے بچانے اور پاکستانی فوج کی مدد کرنے کے جرم میں ظالمانہ سزائیں دی جارہی ہیں لیکن پاکستانی حکمران مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

انھوں نے لاہور میں ایک ہنگامی نیوز کانفرنس میں کہا کہ عالمی اداروں کی مخالفت کے باوجود بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد بھارت کی خوشنودی کے لیے پاکستان کے تحفظ کواپنا دین وایمان سمجھنے والوں کو چن چن کر قتل کرانے پر تلی ہوئی ہیں اور بنگلہ دیشی عدالتیں حکومتی ایماء پرانصاف کا قتل عام کر رہی ہیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں