پاک فوج کی مدد، عبدالقادر ملا کی سزائے موت برقرار

بنگلہ دیشی سپریم کورٹ نے پھانسی کی راہ ہموار کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے مرکزی رہنما عبدالقادر ملا کی سپریم کورٹ میں دائر کردہ نظر ثانی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ان کی سزائے کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پینسٹھ سالہ عبدالقادر ملا کو یہ سزا 1971 میں پاکستانی افواج کی مدد کرنے اور پاکستان توڑنے کی کوششیں کرنے والوں کے خلاف لڑنے والی تنظیم البدر کا حصہ رہنے کی وجہ سے دی گئی ہے۔

واضح رہے حسینہ واجد حکومت کی طرف سے 2010 میں قائم کردہ انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل کو عالمی سطح پر قانون و انصاف سے متعلق ادارے، سفارتکار اور انسانی حقوق کی تنظیمیں متنازعہ قرار دیتی ہیں، تاہم حسینہ واجد نے اپنے سیاسی مخالفین سے نجات کیلیے اسے بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

رواں سال کے شروع میں اسی متنازع ٹریبیونل نے عبدالقادر ملا پر چھ مختلف الزامات کے تحت مقدمہ کی سماعت شروع کی تاہم ایک الزام سے انہیں بری قرار دیتے ہوئے پانچ دیگر الزامات کے تحت 4 فروری کو عمر قید کی سزا سنا دی۔

اس سزا کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل آئی تو سپریم کورٹ نے سزا میں کمی کے بجائے انہیں 17 ستمبر کو سزائے موت سنا دی۔ عبدالقادر ملا کے وکلا نے اس کیخلاف سپریم کورٹ میں ہی نظرثانی کی اپیل دائر کر دی۔

آج جمعرات کے روز سپریم کورٹ نے نظر ثانی کی یہ اپیل مسترد کر دی ہے ۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ جیل حکام نے آٹھ دسمبر کے ایک حکم نامے کے تحت پھانسی دینے کی تیاری شروع کر دی۔ اس سلسے میں منگل کی رات آٹھ بجے جماعت کے مرکزی رہنما عبدالقادر ملا کے اہل خانہ کی '' آخری'' ملاقات بھی کرا دی گئی۔

تاہم سپریم کورٹ کی مداخلت پر نظرثانی اپیل کے فیصلے تک پھانسی روک دی گئی۔ آج جمعرات کے روز سپریم کورٹ نے نظر ثانی کی اپیل باضابطہ طور پر مسترد کر دی ہے ۔ عدالت نے اپنے حکم میں سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس فیصلے کے خلاف بنگلہ دیش میں سخت ردعمل کا خطرہ ہے، تاہم عبدالقادرملا کو اب کسی بھی وقت ''بلیک وارنٹ ''کا سامنا ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں