یمن:القاعدہ کے حملے میں مارے گئے 7 فلپائنی شہید قرار

فلپائن نے اپنے شہریوں پر یمن میں کام کے لیے جانے پر پابندی لگادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کی حکومت نے دارالحکومت صنعا میں گذشتہ ہفتے وزارت دفاع میں القاعدہ کے خودکش بم حملے میں ہلاک ہونے والے سات فلپائنی باشندوں کو شہید قرار دے دیا ہے۔

یمنی وزارت دفاع کی عمارت میں خودکش بم دھماکے میں ان فلپائنی باشندوں سمیت باون افراد ہلاک ہوگئے تھے۔دونوں ممالک کے حکام کا صنعا میں اجلاس ہوا ہے جس میں انھوں نے دہشت گردی کے اس واقعہ میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

فلپائن کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ یمنی صدر عبد ربہ ہادی نے فلپائنی مہلوکین کو بھی یمنیوں کی طرح شہید قراردے دیا ہے۔یمنی حکومت نے ان فلپائنیوں کی لاشوں کی جلد واپسی کے لیے بھی مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

فلپائن نے اس حملے کے بعد اپنے شہریوں کے یمن جانے پر پابندی عاید کردی ہے۔فلپائن کے دفتر روز گار اور محنت نے فلپائنیوں کویمن جانے روک دیا ہے اور وہاں اس وقت کام کرنے والے قریباً دوہزار ورکروں سے کہا ہے کہ وہ حکومت کے خرچے پر وطن واپس آسکتے ہیں۔

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے گذشتہ جمعرات کو صنعا میں فوجی ہیڈکوارٹرز میں بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی تھی اور کہا تھا کہ اس نے یہ حملہ امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں کے ردعمل میں کیا تھا۔ان ڈرون حملوں میں یمنی القاعدہ کے متعدد لیڈر اور جنگجو مارے جاچکے ہیں۔

اس حملے میں مارے گئے سات فلپائنیوں میں ایک ڈاکٹر اور ایک نرس بھی شامل تھی۔ان کے علاوہ گیارہ اور فلپائنی زخمی ہوگئے تھے۔یہ تمام غیرملکی فوجی کمپلیکس میں واقع ایک اسپتال میں کام کرتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں