بنگلہ دیش: عبدالقادرملا نماز تہجد کے وقت سپرد خاک

دن چڑھنے سے پہلے لاش تھکانے لگانے کی کوشش کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کو توڑنے والوں کے خلاف پاکستان کی فوج کا ساتھ دینے والے عبدالقادر ملا کو عوامی ردعمل سے بچنے کیلیے بنگلہ دیش حکومت نے علی الصباح سخت حفاظتی پہرے میں سپرد خاک کرنے کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ حکومت نے نماز تہجد کے ایسے وقت میں تدفین یقینی بنانے کیلیے انہیں پھانسی کے لیے طے کیے گئے وقت سے کئی گھنٹے پہلے تختہ دار پر لٹکا دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش حکومت جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما اور بنگلہ دیش کی اسلامی جمیعت طلبہ کے سابق ناظم اعلی عبدالقادر ملا کو جلد سے جلد پھانسی دینے کا ہدف حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دن کی روشنی میں ان کی تدفین روکنے میں بھی کامیاب رہی ہے۔

جیل انتظامیہ نے عبدالقادر ملا کو پھانسی کیلیے روائتی وقت رات کے پچھلے پہر کے بجائے بنگلہ دیش کے معیاری وقت کے مطابق دس بج کرایک منٹ پر پھانسی دی گئی۔ واضح رہے منگل کی رات تقریبا ساڑھے نو بجے سپریم کورٹ کے جج سید محمود حسین کے حکم پر سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا تھا، جبکہ منگل کی رات جیل حکام انہیں بارہ بجکر ایک منٹ پر پھانسی چڑھانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

جمعرات کی شب دس بجکر ایک منٹ پر پھانسی دیے جانے کے بعد سخت حفاظتی انتظامات میں عبدالقادر ملا کی میت لکڑی کے تابوت میں رکھ کر ضلع فرید پور میں ان کے گاوں لے جائی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کی حمایت میں پھانسی پانے والے اس رہنما کی میت سوا تین بجے ان کے بھائی معین الدین ملا کے حوالے کی گئی، تاہم پولیس اور انتظامی حکام نے انہیں فوری تدفین کا حکم دیا۔

ٹھیک ایک گھنٹے کے بعد سوا چار بجے عبدالقادر ملا کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ نماز فجر سے پہلے ہی تدفین کا عمل مکمل ہو گیا۔ گاوں کی اکثریت کو دن چڑھنے پر خبر ملی کہ عبدالقادر ملا کی تدفین بھی ہو چکی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مرحوم کی نماز جنازہ تیپا کھولہ کی جامع مسجد کے امام سے پڑھوائی گئی، جبکہ جماعت کے قائدین ، قریبی رشتہ داروں سمیت کار کنوں اور گاوں کے لوگوں کی بڑی تعداد بھی نماز جنازہ میں شرکت سے رہ گئی۔

سکیورٹی حکام کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کیلیے راتوں رات تدفین ضروری تھی، بصورت دیگر حالات قابو سے باہر ہو سکتے تھے۔

واضح رہے عبدالقادر ملا کو جنگی جرائم کی عدالت نے 4 فروری کو عمر قید سنائی تھی لیکن بعد ازاں 17 ستمب رکو سپریم کورٹ نے عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔ اس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانون سے متعلقہ حلقوں نے تشویش ظاہر کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں