.

دہشت گردی، اسمگلنگ کے ناسور سے تیونس غیر مستحکم ہوا: رپورٹ

سیکیورٹی سے متعلق بین الاقوامی کرائسز گروپ کی نئی رپورٹ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انٹرنیشنل کرائسز گروپ نے تیونس کی داخلی سلامتی، دہشت گردی اور معاشی عدم استحکام سے متعلق اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دہشت گردی اور سرحد پار سے اسلحہ اسمگلنگ کے ناسور نے تیونس کو بدترین عدم استحکام سے دوچار کر رکھا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انٹرنیشنل کرائسز گروپ نے "دہشت گردی اور اسمگلنگ کے درمیان تیونس کی سرحدیں" کے عنوان سے جاری کردہ چوتھی رپورٹ میں ملک کو درپیش چیلنجوں کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

رپورٹ میں تیونس کی موجودہ سیاسی کشیدگی کو بدامنی اور افراتفری کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تیونس میں "جہادی" گروپوں کی سرگرمیاں میں اگرچہ کمی واقع ہوئی ہے مگرعسکریت پسندی کا عفریت مکمل طور پر حکومت کے قابو میں نہیں آ سکا ہے۔

"ملک میں سیاسی جماعتوں بالخصوص حکمراں جماعت النہضہ الاسلامی اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی رسا کشی عسکریت پسندوں کواپنی من مانی کرنے کا مزید موقع فراہم کر رہی ہے کیونکہ النہضہ کی قیادت میں حکمراں اتحاد اور سیکولر اپوزیشن باہمی الزام تراشی کے ذریعے سلامتی کے مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں مزید بگاڑ رہے ہیں۔"

"ملک کے اندر جاری سیاسی رسا کشی سے سرحدوں کے آر پار ہونے والی سرگرمیوں بالخصوص اسمگلنگ پرحکومت کی کوئی توجہ نہیں رہی ہے۔ عسکریت پسند گروپ نہ صرف اپنی ضرورت کا اسلحہ اسملگ کر رہے ہیں بلکہ جہادی عناصرکی آمد و رفت کا بھی ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔"

کرائسزگروپ نے تیونس کی حکومت اوراپوزیشن کو افہام و تفہیم سے مسائل کے حل کا مشورہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک میں سیاسی کشیدگی ختم نہ ہوئی تو نہ صرف امن وامان کا مسئلہ مزید بگاڑ کا شکار ہوگا بلکہ اقتصادی اور سماجی مسائل بھی دو چند ہو جائیں گے۔

دہشت گردوں اور اسمگروں کا گٹھ جوڑ

انٹرنیشنل کرائسز گروپ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سنہ 2011-2010ء میں مفرور صدر زین العابدین بن علی کے خلاف شروع ہوئی عوامی بغاوت کے بعد سے اب تک تیونس میں امن وامان کا مسئلہ مسلسل خراب تر ہوتا جا رہا ہے۔

لیبیا کے سابق مقتول مرد آہن کرنل معمر قذافی کے خلاف عوامی بغاوت نے تیونس کے عسکریت پسندوں کو خود کو منظم کرنے کا ایک نیا موقع فراہم کیا۔ چنانچہ تیونس کے عسکریت پسندوں نے نہ صرف لیبیا کے اپنے ہم خیال گروپوں سے روابط بڑھائے بلکہ سرحد پار سے اسمگلنگ میں ملوث گروپوں کے ساتھ بھی گٹھ جوڑ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق تیونس کے سرحدی علاقوں کے شہریوں کا ایک بڑا ذریعہ معاش اسمگلنگ ہے۔ جہاں تک عام استعمال کی اشیاء کی اسمگلنگ کا تعلق ہے تو یہ اتنی خطرناک بات نہیں لیکن یہاں معاملہ بھاری اسلحہ کی سرحد پار سے اسمگلنگ ہے۔ اس تشویشناک رحجان کی روک تھام نہ کی گئی تو تیونس غیرملکی اسلحے کا ڈھیر بن سکتا ہے۔