ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات جلد بحال ہوں گے:جان کیری

ایرانی ٹیم ویانا میں چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات معطل کرکے تہران لوٹ آئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ آِیندہ دنوں میں مذاکرات بحال ہوجائیں گے۔

جان کیری ایرانی مذاکرات کاروں کے ویانا بات چیت سے اٹھ آنے کے بعد جمعہ کو تل ابیب میں نیوزکانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ویانا میں ایران کے ساتھ ٹیکنیکل سطح کی بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے اور اب میرے خیال میں مشاورت کے لیے وقفہ کیا گیا ہے۔

انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ آیندہ چند روز میں بات چیت دوبارہ شروع ہوجائے گی اور ہم منصوبے پر مکمل عمل درآمد کے لیے آگے بڑھیں گے۔

قبل ازیں ایرانی مذاکرات کاروں نے امریکا کی جانب سے درجن بھر کمپنیوں اور افراد کو بلیک لسٹ کیے جانے کے ایک اور روز بعد جمعہ کو چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ جوہری مذاکرات معطل کردیے ہیں اور وہ مشاورت کے لیے تہران لوٹ آئے ہیں۔

ایرانی مذاکرات کاراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممالک برطانیہ ،چین ،فرانس،روس ،امریکا اور جرمنی کے ساتھ گذشتہ ماہ جنیوا میں طے پائے عبوری سمجھوتے پر عمل درآمد کے بارے میں تبادلہ خیال کررہے تھے۔

ایران نے جنیوا میں طے پائے عبوری سمجھوتے میں اپنے جوہری پروگرام کے بعض حصوں کو منجمد کرنے سے اتفاق کیا تھا اور اس کے بدلے میں اس پر عاید مغربی پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے جس سے اس کو قریباً سات ارب ڈالرز کا ریلیف ملا ہے۔

ایرانی حکام نے حالیہ دنوں میں متعدد مرتبہ انتباہ کیا تھا کہ اگر مزید پابندیاں عاید کی گئیں تو یہ گذشتہ ماہ طے پائے سمجھوتے کی خلاف ورزی ہوں گی۔ایران کے اعلیٰ جوہری مذاکرات کار عباس عرقچی نے امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں کی مذمت کی ہے اور انھیں تاریخی سمجھوتے کی روح کے منافی قراردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں اور جلد کوئی مناسب فیصلہ کریں گے۔عباس عرقچی کی قیادت میں ایران کی مذاکراتی ٹیم مشاورت کے لیے جمعہ کو تہران واپس پہنچ گئی ہے۔

امریکا نے جمعرات کو ایران پر اس کے متنازعہ جوہری پروگرام کی بنا پر عاید کردہ پابندیوں کے تحت دو درجن سے زیادہ کمپنیوں اور افراد کو بلیک لسٹ کردیا تھا اور ان کے اثاثے منجمد کر دیے تھے۔

اس اقدام کے تحت ان فرموں کے ایران کی قومی ٹینکر کمپنی سے خفیہ کاروبار کرنے کے الزام میں پاناما ،سنگاپور ،یوکرین اور دوسرے ممالک میں موجود اثاثے منجمد کر لیے گئے ہیں۔جنیوا میں طے پائے ابتدائی سمجھوتے کے بعد امریکا کی ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والی فرموں اور افراد کے خلاف یہ پہلی کارروائی ہے۔

امریکا نے اس سمجھوتے کے حصے کے طور پر اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ ایران کے خلاف آیندہ چھے ماہ تک مزید اقتصادی پابندیاں عاید نہیں کی جائیں گی لیکن اوباما انتظامیہ کے سینیر عہدے داروں کا کہنا ہے کہ جمعرات کو پہلے سے عاید کردہ پابندیوں کے تحت ہی ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے اثاثے منجمد کیے گئے ہیں اور انھیں بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔

درایں اثناء یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ اور ایران کے مذاکرات میں چھے بڑی طاقتوں کی نمائندہ کیتھرین آشٹن کے ترجمان نے کہا ہے کہ دونوں فریق مشاورت کے لیے اپنے اپنے ممالک چلے گئے ہیں اور توقع ہے کہ جلد مذاکرات بحال ہوجائیں گے۔

ترجمان مائیکل من نے کہا کہ چار روز تک طویل اور تفصیلی مذاکرات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹیکنیکل ایشوز پر ابھی مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔اب دارالحکومتوں میں مشاورت ہوگی اور توقع ہے کہ ٹیکنیکل امور پر بہت جلد بات چیت ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں