.

امریکا پر بھروسہ نہیں، طالبان سے رابطے ہیں: کرزئی

بھارتی تعاون پر مطمئن ہوں، بھارت اسلحہ اور فوجی تربیت دیگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان صدر حامد کرزئی نے امریکیوں پر قول و فعل کے تضاد کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب امریکا پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ حامد کرزئی کا یہ بیان اس موقف کے اگلے روز سامنے آیا ہے جس میں انہوں ے کہا تھا کہ ''وہ ایسے کسی معاہدے پر دستخط کرنے سے خوفزدہ نہیں ہوں گے جس کے تحت امریکی فوج اگلے سال کے بعد بھی افغان میں موجود رہے گی۔''

اپنے نئی دہلی کے دورہ کے موقع پر صدر کرزئی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ''میں امریکیوں پر بھروسہ نہیں کرتا۔'' حامد کرزئی نے یہ بات امریکی صدر اوباما کی طرف سے پچھلے میں کرائی گئی اس یقین دہانی کے باوجود کہی ہے کہ ''امریکی افواج افغان شہریوں کے گھروں اور سلامتی کا احترام کریں گے۔''

حامد کرزئی ان دنوں تین روزہ بھارتی دورے پر ہیں۔ امریکا سمجھتا ہے کہ بھارتی حکومت حامد کرزئی کو امریکا کے ساتھ مجوزہ سکیورٹی معاہدے پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔

واضح رہے حامد کرزئی شروع میں امریکا کے ساتھ سلامتی کے معاہدے کے حوالے سے مثبت رائے دیتے رہے ہیں، لیکن بعد میں انہوں نے اس معاہدے کو اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد تک اٹھا رکھنے کی بات کرنا شروع کر دی۔ حامد کرزئِی کا اب موقف ہے کہ ''نیٹو فورسز کی زیادہ موجودگی کا مطلب زیادہ بمباری اور زیادہ ہلاکتیں ہو گا۔''

حامد کرزئی کے اس موقف نے امریکی حکام اور قانون سازوں کو مشتعل کر دیا ہے۔ وہ خوفزدہ ہیں کہ اگر امریکا اور افغانستان کے درمیان فوری معاہدہ ممکن نہ ہوا تو سال کے اختتام تک امریکا کو اپنی ساری افواج نکالنا پڑیں گی۔

مسٹر کرزئی نے نئی دہلی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ''جب اوباما مجھے لکھتے ہیں کہ امریکا، افغان شہریوں کی چادر اور چار دیواری کی حفاظت کرے گا تو انہیں یہ عملا کرنا چاہیے۔'' انہوں نے مزید کہا ''انہیں چاہیے کہ وہ صرف یہ ہدات جاری کر دیں کہ اب بمباری نہیں ہو گی اور امن عمل عوامی وسرکاری دونوں سطحوں پر شروع ہو گا۔''