.

انجیئر مھدی جمعہ تیونس کے عبوری وزیر اعظم منتخب

تیونس کی اہم سیاسی جماعتوں نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی نو [9] سیاسی جماعتوں نے اپنے آخری اجلاس میں مھدی جمعہ کو ملک کا نیا وزیر اعظم منتخب کر لیا ہے۔

اس فیصلے کی توثیق کرنے والی نمایاں جماعتوں میں 'النہضہ' بھی شامل تھی جبکہ سالویشن فرنٹ نامی تنظیم نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ ندائے تیونس نے بھی وزیر اعظم کے انتخاب کے لئے ہونی والی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

تیونس کے میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے وزیر اعظم کے انتخاب کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ اتحاد کے بقول کہ موجود حکومت میں شامل کسی فرد کا حکومتی عہدے کے لئے ایسے اجلاسوں میں چناو غیر قانونی ہوتا ہے۔

مھدی جمعہ کو تیونس کا نیا وزیر اعظم چننے سے پہلے ملک کی سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت کا سلسلہ ایک گھنٹے کے لئے روکا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے لئے جو تین نام پیش کئے گئے اس پر حکمران جماعت النہضہ نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ان میں احمد المستیری، وزیر صنعت مھدی جمعہ اور جلول عیاد کے نام شامل تھے۔

تیونس ورکر اتحاد کے جنرل سیکرٹری حسین العباسی نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیش آئند حکومت نیوٹرل اور غیر جانبدار ہو گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی وہ عبوری دور کے لئے بننے والی حکومت سے تعاون کریں تاکہ عوام کو ان کے طویل انتظار کا بہتر پھل دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ قومی مذاکرات میں شریک سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے کے بعد ہی ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ تیونس کو درپیش مسائل کا حل صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی حکومت کو روڈ میپ کی پابندی کرنا ہو گی اور خود کو شفاف انتخابات کے لئے تیار کرنا ہو گا۔ تیونس کو ابھی سخت اور کٹھن راستہ طے کرنا ہے۔

قومی مذاکرات کے دوران مھدی جمعہ کو وزیر اعظم کے منصب پر نامزدگی کے لئے سب سے زیادہ ووٹ ملے۔ نامزد وزیر اعظم تیونس کے علاقے مھدیہ میں 1964 میں پیدا ہوئے۔ پیشے کے اعبتار سے وہ مکنیکل انجیئر ہیں اور کئی برس تک فرانس کی 'ٹوٹل' کمپنی میں کئی برس تک خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔