مردوں پر فٹبال میچ دیکھنے کی پابندی کے خلاف ترکی میں انوکھا احتجاج

چالیس ہزار خواتین نے میچ دیکھ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ترکی میں "اکھیسار" قصبے میں ہونے والے ایک فٹبال مقابلے میں مقامی فٹبال کلب کی جانب سے کھیل کے گراؤنڈ میں مرد شائقین کے داخلے پر پابندی کے خلاف بطور احتجاج چالیس ہزار خواتین اور بچوں نے"فینربخشہ سپورٹس کلب" کی ٹیم کی حوصلہ افزائی کر کے انوکھا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جب "فنربخشہ" کلب کے حامیوں کو معلوم ہوا کہ مقامی فٹبال فیڈریشن کی جانب سے میچ کے دوران مرد شائقین کے گراؤنڈ میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے تو اس کے ردعمل میں خواتین کا ایک جم غفیر"چوکرو ساراکوگلو" گراؤنڈ کی جانب چل پڑا۔ خواتین کی بڑی تعداد نوجوان لڑکیوں پر مشتمل تھی لیکن عمر رسیدہ خواتین تماشائی بھی میدان میں موجود تھیں۔ ان کے ساتھ ساتھ بارہ سال سے کم عمر کے بچے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

فٹبال لیگ کے لقب کے لیے کوشاں "فینربخشہ" فٹ بال کلب کے ساتھ اسی نوعیت کا ایک واقعہ دو سال قبل بھی پیش آ چکا ہے۔ اس وقت بھی خواتین اور بچوں نے ہی میدان میں اتر کر اپنی پسندیدہ ٹیم کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں