عالم اسلام اور مسیحی برادری میں تاریخی مصالحت کی تجویز

او آئی سی کے سربراہ کا دورہ ویٹی کن، پوپ سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسلامی تعاون تنظیم "او آئی سی" کے جنرل سیکرٹری پروفیسر اکمل الدین احسان اوگلو نے ویٹی کن میں عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسیس سے ملاقات میں عالم اسلام اور مسیحی برادری میں تاریخی مصالحت کی تجویز پیش کی ہے۔ پروفیسر اکمل الدین احسان اوگلو نے گذشتہ روز وٹیکن کا دورہ کیا اور پوپ فرانسیس سے ملاقات کی۔ اسلامی تعاون تنظیم کے کسی سربراہ کی پوپ سے یہ پہلی ملاقات ہے۔

استنبول میں "او آئی سی" کی انسانی حقوق سے متعلق تنظیموں کے پانچویں اجلاس سے خطاب میں ڈاکٹر اوگلو نے بتایا کہ انہوں نے عیسائی مذہبی پیشوا سے ملاقات میں عالم اسلام اور مسیحی برادری کے درمیان تاریخی مفاہمت کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ پوپ فرانسیس سے ملاقات میں بڑے عالمی مسائل بالخصوص شام اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات بھی زیر بحث آئے۔

بعد ازاں "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر اوگلو کا کہنا تھا کہ اسلام اور عیسائیت کے مابین مفاہمت کا نظریہ پہلی مرتبہ میں نے پیش نہیں کیا بلکہ کئی عالمی رہ نما اس سے قبل بھی ویٹی کن کو اس نوعیت کے مشورے دے چکے ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ دونوں مذاہب کے درمیان مصالحت کے حوالے سے جو میرے جذبات ہیں، ویٹی کن پوپ بھی اسی طرح کے خیالات رکھتے ہیں۔ انہوں نے میری تجویز کا مثبت جواب دیا۔ عالمی مسائل پر بھی ہم دونوں کے خیالات میں غیر معمولی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

بقول اوگلو جب پوپ سے استفسار کیا گیا کہ فلسطین میں مسیحی برادری کے مقدس مقامات کو اسرائیل کے کنٹرول میں دینے کے ویٹیکن کے فیصلے پر کوئی پیش ہوئی یا نہیں؟ تو پروفیسر اوگلو نے کہا کہ "اس ضمن میں ہم نے "او آئی سی" کے مندوبین کو عالمی عیسائی رہ نماؤں کے پاس بات چیت کے لیے بھیجا ہے۔ ہمارے سفیر عیسائی پادریوں اور وٹیی کن پوپ کو قائل کریں گے کہ وہ فلسطین میں اپنے مقدس مقامات کا کنٹرول صہیونی ریاست کو سپرد کرنے کا فیصلہ تبدیل کریں۔ میں نے بھی ویٹی کن پوپ سے اس مسئلے پر بات کی۔ الحمد للہ انہوں نے مجھے مثبت جواب دیا اور کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مقدس مقامات کے حوالے سے طے پائے معاہدے پر نظر ثانی کریں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ عالم اسلام اور عیسائی دنیا میں مفاہمت کس بنیاد پر ممکن ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ "دونوں مذاہب جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی تعلیمات کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہمارے لیے بس اتنی ہی بات کافی ہے، ہماری مشترکات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کافی ہیں۔ اس بنیاد پر تمام مسلم اور مسیحی ثقافتوں میں مفاہمت ممکن ہے۔

پروفیسر اوگلو کا کہنا تھا کہ دنیا میں اسلام اور عیسائیت ہی دو بڑے مذہب ہیں۔ جن ملکوں میں عیسائیوں کی اکثریت ہے وہاں مسلمان بھی ایک قابل ذکر اقلیت کے ساتھ موجود ہیں اور مسلمان ملکوں میں مسیحی برادری کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اس لیے ہمارے مفادات بھی ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں