.

جنوبی سوڈان میں بغاوت کچل دی ہے: صدر سلوا کیر

دارالحکومت میں مختلف جگہوں پر لڑائی ہو رہی ہے: امریکی سفارتخانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کیر نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک میں مسلح گروپوں کی طرف سے بغاوت کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔

مسلح گروپوں نے بغاوت کی یہ کوشش پیر کو علی الصباح دارالحکومت جوبہ میں وزارت دفاع پر قبضہ کیلیے کی گئی یلغار کی صورت کی تھی۔ پورے دارالحکومت میں بغاوت کی آگ کا ماحول ہے، تاہم فوج نے کافی حد تک بد امنی سے نمٹ لیا ہے۔

صدر سلوا نے میڈیا سے کہا ہے '' یہ ایک بغاوت تھی جسے کچل دیا گیا ہے اور دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال پوری طرح حکومتی قابو میں ہے۔'' انہوں نے مزید کہا ''حملہ آوروں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا گیا ہے اور سرکاری افواج ان کا پیچھا کر رہی ہیں۔''

دارالحکومت میں موجود غیر ملکی سفارتخانوں کے ذرائع اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہی بھاری توپ خانے سے گولہ باری کی آوازیں آنا شروع ہو گئی تھیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑائی کا آغاز دارالحکومت کے مرکز میں قائم فوجی بیرکوں سے ہوا۔

امریکا اور برطانیہ کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو غیر ضروری نقل حرکت سے روک دیا ہے۔ امریکی سفارت خانے کو اس کے مصدقہ ذرائع سے اطلاعات ملی ہیں کہ دارالحکومت کے مختلف حصوں میں ابھی فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔'' العربیہ '' کے جوبہ میں موجود نمائندے کے مطابق بغاوت کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔

جنوبی سوڈان کیلیے اقوام متحدہ کی نمائندہ ہائیلڈے جانسن نے اپنے ایک بیان میں فریقین سے لڑائی ختم کر نے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کیلیے کہا ہے ۔ اقوام متحدہ کی نمائندہ نے کہا ان کا ملک کے اہم رہنماوں سے رابطہ ہے اور وہ صورتحال کو دیکھ رہی ہیں۔

جنوبی سوڈان کے وزیر اطلاعات مائیکل لوئیتھ نے امن و امان کی صورتحال پر تبصرہ کرنے سے انکا کر دیا، تاہم انہوں نے صدر کے حالات پر حاوی ہون ےکا اشارہ دیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا صدر جلد اس موضوع پر خود بات کریں گے، ان کے بولنے سے پہلے میں کچھ نہیں بولنا چاہتا ہوں۔

دوسری جانب سکیورٹی فورسز کے ذرائع نے کہا ہے کہ لڑائی کا آغاز اتوار کو نصف شب سے پہلے ہی ہو گیا تھا ۔ بظاہر یہ لڑائی فوج میں موجود جنوبی سوڈان کے دشمن گروپوں کے ساتھ ہے۔

واضح رہے جنوبی سوڈان، شمالی سوڈان سے ایک ریفرنڈم کے ذریعے 2011 میں آزاد ہوا تھا لیکن حالیہ ہفتوں کے دوران کشیدگی کے واقعات شروع ہو گئے۔