.

دہشت گردی کی بیخ کنی کے لئے سعودی کابینہ کے اقدامات

وزیر داخلہ زیر حراست شخص کو مشروط رہائی دلا سکیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی کابینہ نے سات جرائم کو دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے ان کی ترویج کے لئے مالی تعاون فراہم کرنے والوں کے خلاف اقدامات کی منظوری دی ہے۔

سوموار کے روز مملکت کی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں ان سات اقدامات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو دہشت گردی کے زمرے میں آئیں گے۔ کابینہ نے دہشت گردی کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہر وہ کام کہ جو مجرم ذاتی یا گروہی سطح پر کسی مجرمانہ کارروائی کو روبعمل لانے کے لئے کرے دہشت گردی کے زمرے میں آئے گا۔ نیز کوئی بھی اقدام جس کے ذریعے ملک کے عمومی سسٹم میں خلل پیدا کیا جائے، یا معاشرتی امن اور مملکت کا استحکام اور اس کی قومی وحدت کو خطرے سے دوچار کرنے کا باعث بنے، دہشت گردی کہلائے گا۔ گورننس کا بنیادی سسٹم معطل کرنا یا اسے جزوی طور پر عضو معطل بنانا، یا مملکت کی ساکھ اور مقام کو گزند پہنچانا، یا پھر ریاست اور اس کے قدرتی وسائل کو نقصان پہنچانا، یا ملک کے کسی ادارے یا اتھارٹی کو کسی کام پر مجبور کرنا یا اپنا مینڈیٹ ادا کرنے سے روکنا، یا ایسے کام کرنا یا ان کی ترغیت دینا کہ جن سے مذکورہ بالا اقدامات کے روبعمل ہونے کی راہ ہموار ہوتی ہو، سب دہشت گردی کے زمرے میں آئیں گے۔

سعودی کابینہ نے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے زمرے میں آنے والے اقدامات اور افعال کی بیخ کنی کے لئے ایسی متوازن سزا تجویز کی ہے کہ جس میں انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔

کابینہ کے بیان کے مطابق دہشت گردی کے مشتبہ ملزم سے معاملہ کرنے کے حوالے سے ضروری امور بھی واضح کر دیئے ہیں۔ دہشت گردی کے ملزم کو فیئر ٹرائل فراہم کرنے کے سلسلے میں فراہم کردہ ضمانت کے طور پر مملکت کے وزیر داخلہ کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ مشتبہ شخص کے خلاف ایف آئی آر کالعدم قرار دے سکے۔ نیز دہشت گردی کے ملزموں سے تفتیش میں تمام حکومتی ادارے وزیر داخلہ کو ہر ممکن تعاون پیش کرنے کے پابند ہوں گے۔

حکومت نے وزیر داخلہ کو یہ بھی اختیار دیا ہے کہ وہ ملزم کو دوران تفتیش یا سزا سنائے جانے کے بعد بھی مشروط طور پر رہا کرانے کے مجاز ہوں گے۔