.

لیبیا میں افراتفری کے لئے مصری میڈیا کے استعمال کا الزام

قذافی کے چچا زاد کی مصری ٹی وی چینلوں پر طرابلس کے خلاف بیان بازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی حکمراں نیشنل کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق مقتول لیڈر کرنل معمر قذافی کے کزن، دست راست اور مصر۔ لیبیا تعلقات عامہ کے سابق نگران اعلیٰ احمد قذاف الدم مصری میڈیا میں نمودار ہو کر ملک اور انقلاب کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔

لیبی نیشنل کانگریس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ احمد قذاف الدم نے مصری الیکڑانک میڈیا کے ذریعے لیبیا میں بدامنی اور ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے بارے میں متنازعہ بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے لیبی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ سترہ فروری2011ء کے انقلاب کے خلاف علم بغاوت بلند کریں۔

بیان میں مصری حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ قاہرہ حکومت کرنل قذافی کے ساتھیوں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ احمد قذاف الدم کو بھی مصری حکام کی جانب سے میڈیا میں آنے اور طرابلس کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے کی اجازت دی ہے۔ مصری حکومت کا یہ طرزعمل نہایت "ناپسندیدہ" ہے اور اس سے دونوں ملکوں کے باہمی مفادات اور تعلقات متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

لیبیا کی حکومت نے ایک مرتبہ پھر مصر سے کرنل قذافی کے ساتھیوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔ لیبی کونسل کی خارجہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ کرنل قذافی کے کئی ساتھیوں نے مصر میں سیاسی پناہ حاصل کر رکھی ہے اور وہ دوسرے ملک میں بیٹھ کر لیبیا کو عدم استحکام سے دوچار کر رہے ہیں۔ ہم قاہرہ سے ایک مرتبہ پھر ان تمام مطلوب افراد کی حوالگی کا مطالبہ کر رہے ہیں جو عوامی انقلاب کو ناکام بنانے کی سازشیں کرتے ہیں۔

قبل ازیں لیبی وزیر اعظم علی زیدان نے طرابلس میں متعین مصری سفیر کو اپنے دفترمیں بلا کر احمد قذاف الدم کی سرگرمیوں پر احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اشتہاری قرار دیے گئے احمد قذاف الدم مصری میڈیا کے ذریعے لیبیا میں انارکی کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حال ہی میں وہ مصر کے ایک نجی ٹی وی پر ایک پروگرام میں شریک تھے۔ انہوں نے لیبیا میں قتل عام میں اپنے اوپرعائد الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے موجودہ لیبی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

خیال رہے کہ احمد قذاف الدم نے گذشتہ ہفتے مصر کے "المحور" ٹی وی کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا تھا جس میں انہوں نے کرنل قذافی کے خلاف بغاوت کو دشمنوں کی سازش قرار دیا تھا۔ قذاف کا یہ بیان مصر کی موجودہ حکومت کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہو پایا۔ اس پر وزیر اعظم علی زیدان نے مصری سفیر رجوت السید کو اپنے دفتر میں بلا کر قذاف الدم کے بیان پر احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں آپ کے ذریعے اپنے مصری بھائیوں سے کہوں گا کہ وہ لیبیا میں پریشانی کا باعث بننے والے ہمارے مطلوب عناصر کو ہمارے حوالے کریں۔