.

ٹی وی پروگرام میں صنعاء کے ملٹری اسپتال پرحملےکی ترغیب دی گئی!

"خطبات جمعہ اور نصابی لٹریچراشتعال انگیزمواد سے بھرے پڑے ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سوشل میڈیا پرایک فوٹیج ان دنوں تیزی کے ساتھ مقبول ہو رہی ہے جس میں ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں شریک مہمان نے دارالحکومت صنعاء کے ملٹری اسپتال پرحملےکی ترغیب دی تھی۔ ٹی وی پروگرام میں اکسانے کے چند دن بعد ایک خود کش بمبار نے دھماکہ خیزمواد سے بھری کار ملٹری اسپتال کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا دی تھی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس ویڈیو کے سامنےآنے کے بعد ملک کے ابلاغی اورسماجی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ سماجی حلقوں نے عرب ٹیلی ویژن و ریڈیو یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹی وی ٹاک شوز کے لیے کوئی نیا ضابطہ اخلاق وضع کریں جس میں اشتعال بیانات پر پابندی لگائی جائے۔ سماجی تنظیموں کا موقف ہے کہ ٹیلی ویژن چینل خود بھی ملک میں اشتعال انگیزی اور مذہبی فرقہ واریت پھیلانے میں ملوث ہیں۔

صرف اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیے ایسے متنازعہ لوگوں کوشریکِ گفتگو کیا جاتا ہے جواصلاح احوال کے بجائے ملک میں فساد اورافراتفری کا باعث بن رہے ہیں۔ کسی ایک شخص کی اشتعال انگیز گفتگو سے سیکڑوں افراد کی جان چلی جاتی ہے۔ بھلا اس کا کہاں جواز ہے۔

اس ضمن میں سعودی دانشور منصورالفیقدان نے"العربیہ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں اشتعال انگیز بیانات کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے۔ آپ علماء کے خطباتِ جمعہ اٹھا کے دیکھیں اوراسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب تعلیم کا مطالعہ کریں توآپ حیران ہوں گے کہ یہ سب اشتعال انگیز اور تحریضی مواد سے بھرے پڑے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں منصورالفیقدان کا کہنا تھا کہ یمن جیسے پیچیدہ قبائلی اور سیاسی ڈھانچے کے حامل ملکوں میں اشتعال انگیزی عام سی بات ہے، تاہم مصر، مالی، عراق،مراکش اورجزیرہ عرب میں فرقہ وارانہ دہشت گردی پراکسانے کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔

سعودی تجزیہ نگارکا کہنا تھا کہ دہشت گردی پر اکسانے کا سلسلہ پاکستان سے مراکش تک تمام مسلمان ملکوں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ اس رحجان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے ورنہ بے گناہ شہریوں کا خون اسی طرح بہتا رہے گا۔