بتیس ہزار اخوانیوں کو دستور پر ریفرنڈم کی نگرانی کی اجازت؟

الیکشن کمیشن کی اخوانی این جی اوز کو ریفرنڈم سے دور رکھنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصر میں ایوان صدر کی جانب سے پیش آئند ماہ نئے عبوری آئین پر ریفرنڈم کے اعلان کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ حکومت نے سہوا انسانی حقوق کی ایسی کئی تنظیموں کو بھی ریفرنڈم کی نگرانی کی اجازت دے رکھی ہے جن کا تعلق کالعدم تنظیم اخوان المسلمون سے ہے۔ اس انکشاف کے بعد مصر کے الیکشن کمیشن نے این جی اوز کی جانچ پڑتال کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اخوان سے وابستہ تنظیموں کو ریفرنڈم کی نگرانی کی اجازت واپس لے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ مصر میں حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی جن تنظیموں کو 14 اور 15 جنوری 2014ء کو نئے دستور پر ریفرنڈم کے دوران نگرانی کی اجازت دی گئی ہے ان میں 17 تنظیموں سے وابستہ 32 ہزار افراد اخوان المسلمون کے کارکن ہیں۔ دوسرے معنوں میں خود حکومت نے "غلطی" سے اخوان کے ہزاروں کارکنون کو انتخابی عمل کی نگرانی کی اجازت دے دی ہے حالانکہ اخوان المسلمون اس ریفرنڈم کو یکسرمسترد کرچکی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اسی حوالے سے مصر میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے مختلف اداروں کے مندوبین سے بات کی۔ مصر کی انسانی حقوق کونسل کے رکن ڈاکٹرعبدالغفار شکر نے کہا کہ "دراصل اخوان کی حامی تنظیموں کو ریفرنڈم کی نگرانی کی اجازت کی غلطی حکومت کی نہیں بلکہ خود الیکشن کمیشن کی ہے کیونکہ اس بات کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہوتا ہے کہ کس ادارے کو انتخابی عمل میں مبصر کا کردار سونپا جائے۔ چونکہ درجنوں تنظیمیں ایسی ہیں جنہوں نے سنہ 2012ء کے صدارتی انتخابات کی نگرانی کے لیے اجازت لے رکھی تھی۔ یہ تنظیمیں اب بھی انہی اجازت ناموں کو استعمال کر رہی ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر اب تک 17 "این جی اوز" کے 32 ہزار اخوانی کارکنوں کو ریفرنڈم کی نگرانی کی اجازت فراہم کیے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔

ڈاکٹر شکر نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے وزارت برائے انسانی حقوق کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام این جی اوز اور مبصر اداروں کی جانچ پڑتال کریں اور واضح کریں کہ کس تنظیم کو ریفرنڈم کے دوران نگرانی کی اجازت دی جا سکتی ہے اور کس کو نہیں دی جا سکتی۔ الیکشن کمیشن این جی اوز کے معاملے کو ایک قانونی شکل میں ڈیل کرنا چاہتا ہے۔ اس کے نزدیک اس بات کی کوئی خاص اہمیت نہیں کہ کسی تنظیم کا کس سیاسی یا مذہبی جماعت سے تعلق ہے۔ غیر قانونی دائرے میں آنے والی تنظیموں کو مبصر اداروں کی فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔

مصر میں معروف قانون دان اور اخوان المسلمون کے ماہر ڈاکٹر ثروت الخرباوی کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمون کی ذیلی تنظیموں کا ایک بڑا نیٹ ورک رہا ہے۔ ان میں دسیوں غیر معروف تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن یا حکومت کے لیے بھی یہ فرق کرنا مشکل ہوگا کہ آیا کون سی تنظیم اخوان کی سرپرستی میں کام کر رہی ہے اور کون سی نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر اخوان المسلمون کی حامی تنظیمیں ریفرنڈم کی نگرانی کریں گی تب بھی اس سے ریفرنڈم کے نتائج پر کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں