.

بھارت: امریکی سفارتخانے کی سیکیورٹی، عملے کو حاصل مراعات ختم

"خاتون بھارتی سفارتکار کھوبڑا گاڑے کی برہنہ تلاشی لی گئی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں سفارت کار کی گرفتاری کے بعد بھارت نے امریکی سفارت کاروں کو حاصل مراعات اور سفارتخانے کی سکیورٹی ختم کر دی ہے۔ ايک سینئر بھارتی سیاستدان نے ملک میں ہم جنس پرست امريکی سفارتکاروں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

امريکا ميں خاتون بھارتی سفارت کار کی گرفتاری اور برہنہ تلاشی کے معاملے نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے مابين سفارتی تنازعے کی شکل اختيار کر لی ہے۔ بھارت نے امريکی برتاؤ کو ’قابل مذمت اور ظالمانہ‘ قرار ديا ہے۔ نيويارک ميں تعينات بھارتی نائب کونسل جنرل ديويانی کھوبڑاگاڑے کی گزشتہ ہفتے کے دوران گرفتاری اور برہنہ تلاشی پر بھارتی حکومت نے سخت ردعمل ظاہر کيا ہے۔

محکمہ خارجہ کی ترجمان ميری ہارف نے اپنے بيان ميں کہا کہ وفاقی حکام اس معاملے کے حل کے ليے نئی دہلی کے ساتھ کام کرتے رہيں گے۔ ہارف کے بقول دونوں ممالک وسيع تر دو طرفہ تعلقات کے حامل ہيں اور واشنگٹن بالکل يہ نہيں چاہتا کہ اس معاملے کی وجہ سے تعلقات متاثر ہوں۔

امريکی محکمہ انصاف کے ماتحت کام کرنے والی ’يو ايس مارشلز سروس‘ کی طرف سے منگل کو پہلی مرتبہ اس بات کی تصديق کی گئی کہ کھوبڑا گاڑے کی برہنہ تلاشی لی گئی تھی۔ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے محکمہ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا، ’’ہم اس بات سے واقف ہيں کہ بھارت ميں يہ ايک نازک معاملہ ہے۔ يہی وجہ ہے کہ اس گرفتاری کے تمام مراحل کا جائزہ ليا جا رہا ہے تاکہ اس بات کا تعين کيا جا سکے کہ اس عمل کے دوران مقررہ طريقہ کار اپنايا گيا یا نہیں۔ جہاں اور جتنا ممکن ہو سکا تعاون کيا گيا۔‘‘

امریکی سفارتی عملے کی مراعات ختم

گزشتہ روز دارالحکومت نئی دہلی ميں امريکی سفارت خانے کی عمارت کے باہر سکيورٹی رکاوٹوں کو ہٹا ديا گيا ہے۔ پريس ٹرسٹ آف انڈيا کے مطابق يہ احتجاجی قدم انتظاميہ کے حکم پر اٹھایا گیا تھا تاہم اس بارے ميں جاننے کے ليے جب حکومت سے رابطہ کيا گيا، تو کوئی جواب موصول نہ ہو سکا۔ امريکی سفارت خانے سے بھی اس بارے ميں بات چيت کے ليے کوئی دستياب نہ تھا۔

محکمہ خارجہ کی ترجمان ميری ہارف کے مطابق بھارتی حکومت کو يہ واضح کر ديا گيا ہے کہ اسے ويانا کنونشن کے تحت اپنی سفارتی ذمہ دارياں پوری کرنا ہوں گی۔ ہارف کے بقول واشنگٹن اپنے سفارتی عملے کی سلامتی کو انتہا درجے کی ترجيح ديتا ہے۔

ادھر بھارتيہ جنتا پارٹی کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے ليے نامزد امیدوار نريندر مودی اور راہول گاندھی نے امريکی وفد کے ساتھ ملاقات کرنے سے انکار کر ديا۔ مودی نے اس بارے ميں ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے ايک پيغام ميں لکھا، ’’ہماری خاتون سفارت کار کے ساتھ بد سلوکی کے معاملے ميں اپنے ملک سے يکجہتی اور اس عمل کے خلاف احتجاج کے طور پر ہم نے دورہ کرنے والے امريکی وفد سے ملنے سے انکار کر ديا۔‘‘

بھارتيہ جنتا پارٹی کے ايک اور سينئر رکن نے يہ تک کہہ ڈالا کہ بھارت کو اس واقعے کے ردعمل اور احتجاج کے طور پر بھارت ميں تعينات تمام ہم جنس پرست امريکی سفارتکاروں کو گرفتار کرتے ہوئے جيل بھيج دينا چاہيے۔ واضح رہے کہ بھارتی سپريم کورٹ کے گزشتہ ہفتے جاری کردہ ايک فيصلے کے تحت ملک ميں اب ہم جنس پرستی غير قانونی فعل ہے۔

بھارت کی سفارت کار دیویانی کھوبرا گاڑے کو پولیس نے ویزا فراڈ اور غلط بیان دینے پر گزشتہ جمعرات مين ہيٹن کے علاقے سے حراست میں لے ليا تھا۔ بعد ازاں انہيں ڈھائی لاکھ ڈالر کی ضمانت کے بعد رہا کر ديا گيا تھا۔