شامیوں کے نام پر دہشت گردی کے لئے عطیات جمع کرنے پر پابندی

سعودی وزارت سماجی امور بیرون ملک امدادی سرگرمیوں کی مجاز نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کی حکومت نے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر شامی متاثرین کی امداد کے لیے جعلی فنڈ ریزنگ مہمات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرین کے لیے عطیات جمع کرنے کی آڑ میں دہشت گردوں کی مدد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سعودی عرب کی وزارت برائے سماجی امور کا کہنا ہے کہ آن لائن فنڈ ریزنگ مہمات سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ وزارت سماجی امور بیرون ملک کسی طبقے کے لیےعطیات جمع کرنے کی مجاز نہیں ہے جبکہ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ متاثرین کے لیے عطیات صرف سرکاری ادارے اور مجاز تنظیمیں ہی جمع کر سکتی ہیں۔ شہری جعلی فنڈ ریزنگ مہمات میں حصہ لینے سے سختی گریزکریں کیونکہ جعلی اور فرضی ناموں کے ساتھ عطیات جمع کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ریاض وزارت سماجی امور کی جانب سے جاری ایک بیان میں سوشل میڈیا کے ذریعے شامی پناہ گزینوں کے لیے عطیات جمع کرنے کی مہمات پر اپنا موقف واضح کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بیرون ملک متاثرین بالخصوص شامی متاثرین کے لیے فنڈ ریزنگ مہم وزیر داخلہ شہزادہ نائف بن عبدالعزیزکی نگرانی میں جاری ہے۔ وزارت سماجی امور کا عطیات جمع کرنے کی مہمات میں کوئی کردار نہیں ہے۔

ادھر وزارت سماجی امور کے ترجمان خالد الثبیتی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں کہا ہے کہ ہماری وزارت کے زیرانتظام جو فلاحی ادارے فنڈز جمع کررہے ہیں، وہ صرف اندرون ملک بعض سماجی سرگرمیوں تک محدود ہیں۔ ان اداروں کو بیرون ملک کسی امدادی مہم کے لیے عطیات جمع کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں خالد الثبیتی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے جعلی اور گمنام تنظیمیں عطیات کی آڑمیں لوگوں کو لوٹ رہی ہیں جبکہ وزارت سماجی امور کے ہاں رجسٹرڈ تمام ادارے سوائے"اواصر آرگنائیزیشن" کے کوئی تنظیم بیرون ملک فلاحی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے رہی ہے۔ اواصر بھی بیرون ملک صرف سعودی شہریوں کی فلاح کے لیے سرگرم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شامی پناہ گزینوں کے لیے فنڈ ریزنگ مہمات صرف وزارت داخلہ کے ذریعے جاری ہیں۔ جعلی اور فرضی ناموں کے ساتھ آن لائن مہمات کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل اور وزارت داخلہ خود بھی مکمل ان جعلی مہمات کو مانیٹر کررہے ہیں۔

درایں اثناء سعودی وزارت داخلہ کے زیرانتظام پولیس حکام نے شامی متاثرین کے لیے کئی آن لائن فنڈ ریزنگ مہمات ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ریاض پولیس نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ شامی متاثرین کی مدد کی آڑمیں دہشت گردوں کی سپورٹ اور شہریوں کی لوٹ مارکی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔

بیان میں کہا ہے کہ حکام سوشل میڈیا اور موبائل فون میسیجنگ کے ذریعے عطیات کی وصولی کی جعلی مہمات کو مانیٹر کر رہے ہیں۔ عوام الناس سے اپیل ہے کہ وہ جعلسازوں کی چنگل میں نہ آئیں، جس نے شامی متاثرین کی امداد کے لیے عطیات دینا ہو وہ سرکاری اداروں یا مجاز تنظیموں کے توسط سے اپنے عطیات اور صدقات جنگ زدہ شامیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں شامی پناہ گزینوں کے لیے سرکاری سطح پر مخصوص ادارے کام کررہے ہیں۔ ان میں رابطہ عالمی اسلامی، انٹرنیشنل اسلامک ریلیف آرگنائزیشن [IIRO] اور ہلال احمر سعودی عرب جیسے معروف امدادی ادارے شامل ہیں۔

وزارت داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب میں جعلی فنڈ ریزنگ مہمات سے جمع کی گئی رقوم دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ اس لیے شہری ایسی کسی گمنام تنظیم کوعطیات ہرگزنہ دیں جو ملک وقوم کے مفاد کےخلاف کام کر رہی ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں