.

بارودی سرنگ دھماکے میں پاسداران انقلاب کے تین اہلکار ہلاک

بلوچستان عدل آرمی نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکومت نے پاکستان کی سرحد سے ملحقہ سُنی اکثریتی صوبہ بلوچستان کے شہر سراوان میں بارودی سرنگ دھماکے میں پاسدارانِ انقلاب کے تین اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ مارے جانے والے اہلکاروں میں ایک سینیئر عہدیدار بھی شامل ہے۔

صوبہ سیستان بلوچستان کے گورنر رجب علی شیخ زادہ نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی"اے ایف پی" کو بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کوعلی الصباح اس وقت پیش آیا جب پاسداران انقلاب کی ایک فوجی گاڑی سرحدی چوکی کے قریب بنائی گئی دیوار کی طرف جا رہی تھی کہ سڑک کنارے بچھائی گئی بارودی سرنگ پھٹنے سے گاڑی الٹ گئی اور اس میں سوار تین اہلکار ہلاک ہو گئے۔

درایں اثناء صوبہ بلوچستان میں سُنی آبادی کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم العدل بلوچ آرمی نے سروان پاسدارن انقلاب کے اہلکاروں پرحملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاسداران انقلاب پرحملہ تہران حکومت کی جانب سے سنی مسلک کے پیروکاروں، عرب شہریوں اور کردوں کو اندھا دھند پھانسیوں کا ردعمل ہے۔

خیال رہے کہ پچھلے چند ماہ کے دوران ایرانی کے سُنی اکثریتی صوبہ سیستان بلوچستان میں بلوچ عدل آرمی اور دیگرشدت پسند تنظیموں کے حملوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ دو ماہ قبل اسی صوبے میں پاسداران انقلاب کے چودہ اہلکاروں کی ہلاکت کے فوری بعد تہران سرکار نے عرب اھوازی، کُرد سماجی کارکنوں اور سُنی مسلک کے کوئی سولہ پیروکاروں کو پھانسی پر لٹکا دیا تھا۔

اس واقعے کے بعد بلوچ عدل آرمی کی صوبہ بلوچستان میں کارروائیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ دو ہفتے قبل سراوان میں پاسداران انقلاب کا ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ العدل آرمی نے ہیلی کاپٹر مار گرانے کی ذمہ داری قبول کی تھی تاہم ایرانی حکومت کے ذرائع کے مطابق ہیلی کاپٹر فنی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا تھا۔