.

برطانوی اخبار شہزاد ولیم کی اہلیہ کیٹ کے فون ہیک کرتا رہا

عدالت میں کیٹ اور شہزادہ ہیری کے فون ریکارڈ ہونے کا پہلی مرتبہ انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی اخباری صنعت کی مشہور شخصیت روپرٹ مرڈوچ کے ملکیتی ''مرحوم'' اخبار نیوز آف دا ورلڈ ٹیبلائیڈ'' کا عملہ شہزادہ ولیم کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن اور ملکہ الزبتھ کے پوتے شہزادہ ہیری کے فون بھی ریکارڈ کرتا رہا تھا۔

اس بات کا انکشاف جمعرات کو لندن کی اولڈ بیلے فوجداری عدالت میں کیا گیا ہے۔پراسیکیوٹر اینڈریو ایڈیس نے عدالت کو بتایا کہ ولیم کے کیٹ کو پیغامات کی ریکارڈنگ اخبار کے سابقہ شاہی ایڈیٹر کے گھر سے برآمد ہوئی تھی۔وہ ایڈیٹر اس ٹیبلائیڈ اخبار کے لیے 2006ء میں کام کرتا رہا تھا۔

ایڈس نے جیوری کے روبرو جو بیان پڑھ کر سنائے،ان میں سے ایک میں شہزادہ ولیم نے کہا کہ ''ہائی بے بی ،یہ میں ہوں ولیم''۔وہ کیٹ کو ''بے بی کنز'' کے نام سے پکارتے رہے تھے۔اس پیغام کی تفصیل میں وہ یہ بھی بتارہے تھے کہ وہ سیندھرسٹ اکیڈمی میں فوجی تربیت کے دوران ایک مرتبہ گولیوں سے کس طرح بال بال بچے تھے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ نیوز آف دی ورلڈ تب فون کالز کی تفصیل پر مبنی اسٹوریز شائع کیا کرتا تھا۔ولیم اور کیٹ کے درمیان طالب علمی کے زمانے میں 2001ء میں اسکاٹ لینڈ کی سینٹ اینڈریو یونیورسٹی میں راہ ورسم استوار ہوئی تھی۔اپریل 2011ء میں ایک رنگا رنگ تقریب میں ان کی شادی ہوئی تھی اور ان کی شادی اس تقریب کو دنیا بھر میں قریباً دو ارب افراد نے براہ راست ملاحظہ کیا تھا۔

عدالت میں ولیم کے چھوٹے بھائی شہزادہ ہیری کے فون کا ایک ریکارڈ پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں ایک نامعلوم شخص اونچی آواز میں بول رہا ہے اور خود کو ہیری کی گرل فرینڈ چیلسی ڈیوی کے طور پر پیش کررہا ہے۔وہ شہزادہ ہیری کے بالوں کے رنگ کی وجہ سے انھیں ''جنجر'' کہہ رہا ہے۔اخبار نے بعد میں ایک اسٹوری شائع کی تھی اور اس میں کہا تھا یہ پیغام دراصل ولیم کی جانب سے تھا۔

ماضی میں یہ اطلاعات سامنے آچکی ہیں کہ مذکورہ اخبار کا عملہ برطانیہ کے شاہی خاندان کے قریبی مشیروں کے فون ریکارڈ کرتا رہا تھا لیکن یہ پہلی مرتبہ انکشاف ہوا ہے کہ اس کی اس طرح کی سراغرسانی سے خود شاہی خاندان بھی محفوظ نہیں رہا تھا اور اہم شخصیات کے فون ریکارڈ کرنے کا اسکینڈل منظرعام پر آنے کے بعد ہی اس اخبار کو بند کردیا گیا تھا۔

اگست 2006ء میں اس اخبار کے رائل ایڈیٹر کلائیو گڈمین اورایک نجی تفتیش کار گلین ملکیئر کو لوگوں کی جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور بعد میں ان پر شاہی خاندان کے معاونین کے ٹیلی فون ہیک کرنے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

اس وقت نیوز آف دا ورلڈ کے ایڈیٹر اینڈی کولسن اور چھے دیگر افراد کے خلاف لوگوں کے موبائل فونز سے آوازوں والے پیغامات ریکارڈ کرنے کے الزامات میں مقدمات چلائے جا رہے ہیں لیکن ان تمام نے اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔

جنوری 2007ء میں گڈمین اور ملکیئر نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا اعتراف کیا تھا اور عدالت نے اول الذکر کو چار سال اور موخرالذکر کو چھے ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ملکیئر نے اب اپنے خلاف لگائے گئے فون ہیکنگ کے دوسرے الزامات کا بھی اعتراف کیا ہے اوربند اخبار سے ماضی میں وابستہ تین سینیر صحافیوں نے بھی موبائل فون کے پیغامات کو ٹیپ کرنے کے الزامات کی سازش کا اعتراف کیا ہے۔