.

جنوبی سوڈان: صدرکیر کی مخالف لیڈر کو مذاکرات کی پیش کش

خونریزی میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے: صحافیوں سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی سوڈان کے صدر سلواکیر نے کہا ہے کہ وہ خونریزی کے خاتمے کے لیے اپنے مخالف لیڈر ریک ماشر کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو میں ماشر کے وفادار فوجیوں پر اپنی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کا الزام عاید کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''میں ریک ماشر کے ساتھ بات چیت کے لیے بیٹھنے کو تیار ہوں لیکن میں نہیں جانتا کہ ان مذاکرات کا نتیجہ کیا ہو گا''۔ انھوں نے ملک میں جاری تنازعے کو قبائلی کے بجائے سیاسی قرار دیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ طاقتور فوجی کمانڈر پیٹر گیڈٹ نے ایک مرتبہ پھر بغاوت کر دی ہے اور وہ مشرقی ریاست جنگلئی میں ماشر کی حمایت میں حملے کر رہے ہیں۔اس کمانڈر نے 2011ء میں بھی بغاوت کی تھی لیکن وہ دوبارہ فوج میں شامل ہو گئے تھے۔

قبل ازیں ماشر نے حکومت کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ انھوں نے کوئی بغاوت برپا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ صدر کیر اپنے سیاسی حریفوں کا صفایا کرنے کے لیے اس دعوے کو استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انھوں نے پیرس سے کام کرنے والی نیوز ویب سائٹ سوڈان ٹرائبیون کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''جوبا میں جو کچھ ہوا تھا وہ صدارتی محافظوں کے درمیان اختلافات کا نتیجہ تھا اور یہ کوئی بغاوت نہیں تھی''۔

صدر سلواکیر کے حامی مسلح دستوں اور مخالفین کے درمیان گذشتہ اتوار سے جھڑپیں جاری ہیں جن میں سیکروں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ریاست جنگلئی کے دارالحکومت بور میں منگل کی رات سے متحارب گروہوں کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

صدرکیر نے کہا کہ جو مسلح افراد لوگوں کو قتل کر رہے ہیں، انھیں عدالت میں پیش کیا جائے گا اور ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے۔ انھوں نے لوگوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور اقوام متحدہ کے امن مشن کے تحت خیموں میں پناہ کے لیے جانے والے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ آئیں۔

جوبا اور دو اسپتالوں کے حکام نے اقوام متحدہ کو بتایا ہے کہ اتوار سے جاری لڑائِی میں چار سو سے پانچ سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔تاہم اقوام متحدہ کے امن مشن کے سربراہ لاڈ سوس کا کہنا ہے کہ وہ ہلاکتوں کے ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

واضح رہے کہ سلواکیر اور ماشر مختلف نسلی گروپوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ سوڈان کی خانہ جنگی کے دوران مختلف گروپوں کی جانب سے خرطوم کی فوجوں کے خلاف لڑتے رہے تھے۔