.

دو نو مسلم برطانوی ایک فوجی کے اندوہناک قتل پر قصوروار قرار

دونوں ملزموں کا صحت جرم سے انکار، فوجداری عدالت نے دفاعی دلائل مسترد کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن کی ایک فوجداری عدالت نے ایک برطانوی فوجی کو دن دہاڑے وحشیانہ انداز میں قتل کرنے والے دو نومسلم ملزموں کو قصوروار قرار دے دیا ہے۔

لندن کی اولڈ بیلے فوجداری عدالت کی ایک جیوری نے انتیس سالہ مائیکل ادبولاجو اور بائیس سالہ مائیکل ادب ویل کو 22مئی کو لندن کے جنوب مشرقی علاقے وول وچ میں فوجی لی رگبی کو قتل کرنے کے الزام میں قصوروار قرار دیا ہے۔

دونوں ملزمان برطانوی شہری ہیں اور انھوں نے جیوری کے روبرو بیان دیتے ہوئے اپنے خلاف عاید کردہ الزام کی صحت سے انکار کیا تھا۔ان میں سے ادبولاجو نے کہا تھا کہ انھوں نے اللہ کی راہ میں جنگ میں برطانوی فوجی کو قتل کیا تھا اور یہ اقدام دومسلم ممالک عراق اور افغانستان میں مغربی ممالک کی جنگوں کے ردعمل میں کیا گیا تھا۔

ان میں سے ایک ملزم نے عدالت میں کہا تھا کہ انھوں نے آنکھ کے بدلے آنکھ اور قتل کے بدلے قتل کا بدلہ لیا ہے اورانھوں نے برطانیہ کی مسلمانوں کے خلاف جنگوں کا انتقام لیا تھالیکن عدالت ان کے دلائل کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ اگر وہ کوئی مقدس جنگ لڑرہے تھے تو اس کو دلیل کے طور پر عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے فوجی رگبی کے قتل کے اندوہناک واقعہ کے بعد ایک ٹاسک فورس قائم کی تھی اور اس کی سفارشات کی روشنی میں''منافرت پھیلانے والے مبلغین کے زیراثر سخت گیری کی بنیاد پر ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے اسلامی انتہا پسندی کو ایک ممتاز آئیڈیالوجی قرار دینے کا اعلان کیا تھا''۔

برطانوی وزیر اعظم نے اگلے روز کہا کہ ''اس موسم گرما میں ہم نے جو کچھ دیکھا اس سے پوری قوم سکتے میں آ گئی تھی۔اس طرح کے المیے حکومت کو خبردار کرنے کے لیے تھے کہ وہ اور پورا معاشرہ انتہا پسندی کی تمام شکلوں پر قابو پانے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔خواہ یہ ہمارے طبقات ،اسکول ،جیلیں ،اسلامی مراکز یا جامعات ہیں''۔