.

جنوبی سوڈان میں تشدد کا فوری خاتمہ کیا جائے: اوباما

"جنگ جاری رہنے سے ملک کا تاریک ماضی لوٹ سکتا ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے جنوبی سوڈان میں جاری جنگ فوری طور پر بند کرنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے برسرجنگ ملک 'سول وار کے دہانے' پر کھڑا ہے۔

اسے قبل انہوں نے تشدد کے شکار جنوبی سوڈان میں امریکی اہلکاروں اور مفادات کے تحفظ کی خاطر 45 امریکی فوجی بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ "حالیہ جنگ سے جنوبی سوڈان اپنے تاریک ماضی کی طرف لوٹ سکتا ہے۔"

ان خیالات کا اظہار براک اوباما نے نوزائیدہ افریقی ریاست میں ہونے والے خون خرابے پر اپنے ایک سخت بیان میں کہی۔ بڑھتے ہوئے تشدد کے باعث دنیا کی نوخیز قوم خانہ جنگی کی دلدل میں اتر سکتی ہے۔

اپنے بیان میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ "سیاسی انتقام یا حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی خاطر لڑائی فوری طور پر بند ہونی چاہئے۔ تمام فریقوں کو اپنے ہمسایہ ملکوں کی دانشمندانہ مشوروں پر کام دھرنے چاہیئں۔ انہیں مذاکرات اور مصالحت کے لئے فوری طور پر اقدام اٹھانے چاہیئں۔ جنوبی سوڈان کے رہمناوں کو جان لینا چاہئے کہ ایک سیاسی دشمن سے سمجھوتہ مشکل ہے تاہم انہیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ نہ رکنے والے تشدد اور نفرت کا سلسلہ اس سے بھی مشکل فیصلہ ہو گا۔"

منگل کے روز امریکا نے جنوبی سوڈان میں اپنے تمام غیر ہنگامی سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ تشدد کا خاتمہ ملکی قیادت کی ذمہ داری ہے۔ دارلحکومت جوبا میں امریکی سفارت خانے نے روزمرہ معمولات وقتی طور پر روک رکھے ہیں۔

جونگولی ریاست میں اقوام متحدہ کی بیس پر نیئور نسل کے جوانوں کے حملے میں تین بھارتی فوجیوں کی ہلاکت سیماب صفت جنوبی سوڈان میں غیر ملکی فوجوں کو درپیش خطرات کی واضح مثال ہے۔ مزید ایسی ہلاکتوں کا خدشہ اپنی جگہ موجود ہے۔