.

شام کے بارے میں دوسری جنیوا کانفرنس کا تیاری اجلاس

جیش الحر کے سربراہ کی تمام باغی جنگجو گروپوں سے متحد ہونے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی الاخضرالابراہیمی نے جنیوا میں مجوزہ امن کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلہ میں امریکا اور روس کے اعلیٰ سفارتی نمائندوں سے بات چیت کی ہے۔

الاخضرالابراہیمی نے گذشتہ ماہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کے دارالحکومتوں کے دورے کیے تھے جس کے بعد جنیوا میں 22جنوری کو شام کے بارے میں دوسری امن کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا۔

براہیمی نے جمعہ کو مذاکرات سے قبل کہا کہ شامی حکومت اور حزب اختلاف دونوں کو جنیوا مذاکرات کی ذمے داری قبول کرنا ہوگا۔وہ اور اقوام متحدہ کے سیاسی امور کے سربراہ جیفرے فیلٹمین روس کے نائب وزرائے خارجہ میخائل بوغدانوف اور گیناڈی گیٹلوف اور امریکی محکمہ خارجہ کی سینیر عہدے دار وینڈی شرمین سے مجوزہ کانفرنس کے شرکاء اور تیاریوں سے کے سلسلہ میں بات چیت کررہے ہیں۔

وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تین مستقل رکن ممالک برطانیہ ،فرانس اور چین اور شام کے ہمسایہ ممالک عراق ،اردن،لبنان ،ترکی اور یورپی یونین اور عرب لیگ کے سفیروں سے بھی اس سلسلہ میں ملاقات کرنے والے تھے۔

اب نظریں شام سے مجوزہ کانفرنس کے شرکاء کی ممکنہ فہرست کی جانب مرکوز ہیں۔شامی حزب اختلاف کے درمیان کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں اور سخت گیر گروپ صدر بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت کررہے ہیں۔

درایں اثناء باغی جنگجوؤں اور فوجیوں پر مشتمل جیش الحرکے کمانڈر میجر جنرل سلیم ادریس نے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے تمام جنگجوؤں سے کہا ہے کہ وہ صدر بشارالاسد کے خلاف جدوجہد میں متحد ہوجائیں۔انھوں نے جمعہ کو العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ باغیوں کے درمیان باہمی لڑائی کو ختم کرانے کے لیے وہ ہر ممکن کوشش کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ شام میں انقلاب کے مقاصد پر یقین رکھنے والے تمام باغی ہمارے بھائی ہیں۔انھوں نے یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب شام کے شمالی علاقوں میں اعتدال پسند باغی جنگجوؤں اور القاعدہ سے متاثر جنگجو گروپوں کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے اور القاعدہ کے جنگجوؤں نے بہت سے علاقوں سے جیش الحر کو نکال باہر کیا ہے اور کے سامان رسد یا اسلحے کے ڈپوؤں پر قبضہ کر لیا ہے۔

بشار الاسد کے تحفظ کی ضمانت

ادھر روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے ماسکو میں کہا ہے کہ صدر بشارالاسد نے اقتدار چھوڑنے کی صورت میں روس سے اپنے تحفظ کی کوئی ضمانت طلب نہیں کی ہے۔

لاروف نے روسی خبررساں ایجنسی ریا نووستی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمیں بشارالاسد یا دمشق سے کسی اور کی جانب سے ایسی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''بشارالاسد متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ملک چھوڑ کر کہیں نہیں جارہے اور وہ اپنے عوام کے درمیان ہی رہنا چاہتے اور اپنی ذمے داریاں کو پورا کرنا چاہتے ہیں''۔

روسی وزیرخارجہ نے اس امکان کو بھی مسترد نہیں کیا کہ شامی صدر آیندہ سال ملک میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے۔تاہم ان کے بہ قول اس ضمن میں وہ فیصلہ انتخابات کے قریب آنے کے بعد کریں گے اور اس کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ آیا انھیں عوام میں حمایت حاصل بھی ہے یا نہیں۔