.

ترک وزراء کے بیٹے کرپشن کے الزامات میں دھر لئے گئے

وزیر اعظم نے بغیر اجازت گرفتاریوں پر استنبول پولیس چیف نکال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیر داخلہ اور مالیات کے بیٹوں پر بدعنوانی کے الزام میں مقدمہ درج کر کے انہیں ہفتے کے روز حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس مقدمے سے ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

امریکی ٹی وی سی این این کے ترک ایڈیشن اور این ٹی وی کے مطابق حکومتی ملکیتی ہال بینک کے مینیجنگ ڈائریکٹر پر بھی بدعنوانی، فراڈ، خرد برد اور سونے کی سمگلنگ کے الزامات عاید کئے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ گیارہ برسوں سے ترکی پر حکمرانی کرنے والے اسلام پسند ایردوآن کے قریبی لوگوں کے بارے میں تاریخ کا یہ پہلا اسکینڈل ہے۔ یہ بحران منگل کے روز میڈیا کی شہ سرخیوں کا موضوع بنا جب پولیس نے علی الصباح بدعنوانی میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لئے چھاپوں کا سلسلہ شروع کیا۔

گرفتار ہونے والوں میں وزیر داخلہ معمر گلر، وزیر مالیات ظافر کگلیآن اور وزیر ماحولیات ایردوآن بیرکتار اور سرکاری ہال بینک کے چیف ایگزیکٹو سلیمان اسلان کے بیٹے شامل تھے۔

وزیر ماحولیات کے بیٹے کو اسی دیگر افراد کے ہمراہ حراست میں تو لیا گیا تاہم انہیں جمعہ کی صبح پراسیکیوٹرز اور ججوں کے تفتیشی پینل کے سامنے سوال جواب کے بعد رہا کر دیا گیا۔

بحران کی زد میں آ کر ترک بازار حصص میں شیئرز کی قمیت گرنا شروع ہو گئی اور ترک کرنسی لیرا کی قدر میں ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی۔

اسکینڈل کے منکشف ہونے کے بعد سے ابتک ترک وزیر اعظم نے استنبول کے پولیس سربراہ سمیت درجنوں پولیس اہلکاروں کو بغیر اجازت تفتیش کرنے کی پاداش میں گھر بھیج دیا ہے۔

ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق انہیں ہائی پروفائل گرفتاریوں کے سلسلے میں 17 دوسرے اہلکاروں کو جمعہ کی صبح نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔

طیب ایردوآن کے نقاد ان پر الزام لگا رہے کہ وہ ایسی برخاستگیاں کر کے اپنے حاشیہ برداروں کو تحفظ دے رہے ہیں۔ نسبتا کم تجربہ کار اور غیر معروف گورنر سیلامی الٹینوک کو استنبول شہر کا پولیس سربراہ بنانے کے فیصلے کو وزراء کے خلاف جاری تفتیش کی فائل داخل دفتر کرنے کی کوشش قرار دی جا رہی ہے۔

الٹینوک نے جمعرات کے روز استنبول پہنچنے کے لئے وزیر اعظم ایردوآن کا ذاتی نجی جہاز استعمال کیا، اس پر متعدد حلقوں نے اعتراض کیا ہے۔