لیبیا:بن غازی میں خودکش بم دھماکا،13 افراد ہلاک

خودکش بمبار نے بارود سے لدا ٹرک چیک پوائنٹ پر دھماکے سے اڑا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کے دوسرے بڑے شہربن غازی کے نزدیک ایک فوجی چیک پوائنٹ پر خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں تیرہ افراد ہلاک اور تین شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

لیبی حکومت نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ خودکش بمبار نے اپنی باردو سے بھری کار بن غازی شہر سے قریباً پچاس کلومیٹر دور واقع فوجی چیک پوائنٹ پر دھماکے سے اڑا دی۔بم حملے میں تین افراد شدید زخمی ہوگئے ہیں اور ان میں دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

ایک عینی شاہد کے مطابق تباہ کن بم دھماکے کے نتیجے میں چیک پوائنٹ اور اس کے آس پاس موجود لوگوں کے چیتھڑے اڑ گئے اور ان کے جسمانی اعضاء ادھر ادھر پھیل گئے۔تیرہ مہلوکین میں سے سات کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ باقی لاشیں ناقابل شناخت ہوچکی ہیں۔

بن غازی میں متعین ایک فوجی افسر ایمن الابدلے نے بتایا ہے کہ ایک نوجوان ٹویوٹا ٹرک کو چلاتے ہوئے چیک پوائنٹ پر لے آیا اور اس کو وہاں لا کر کھڑی کردیا جونہی فوجیوں نے اس کی تلاشی لینا شروع کی تو اس نے ٹرک کو دھماکے سے اڑا دیا۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس خودکش بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔اس سکیورٹی پوسٹ کے سربراہ فراج العبدلی نے بتایا ہے کہ انھوں نے چار مسلح افراد کو اسلحہ لے کرچلنے کے الزام میں نومبر میں گرفتار کیا تھا۔اس کے بعد سے چیک پوائنٹ پر حملے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔

بن غازی میں جمعہ کو نامعلوم مسلح افراد نے آرمی انٹیلی جنس کے سربراہ کو گولی مار کر قتل کردیا تھا۔ بن غازی میں فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ کرنل فتح اللہ الجزیری مشرقی قصبے درنۃ میں اپنے خاندان میں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے۔اس دوران نامعلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کردی۔مقتول کرنل کو حال ہی میں شورش زدہ شہر میں فوجی انٹیلی جنس کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ لیبیا کا مشرقی علاقہ 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لاقانونیت کا شکار ہے۔مسلح جنگجو لیبیا کی سکیورٹی فورسز ،غیرملکیوں ،ججوں ،سیاسی کارکنان اور میڈیا کے نمائندوں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنارہے ہیں۔اب تک ان کے حملوں میں تین سو سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں