یمن:القاعدہ نے فوجی اسپتال پر خودکش حملے کی معذرت کرلی

مہلوکین کے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے اور زخمیوں کے علاج کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

القاعدہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں وزارت دفاع کے زیراہتمام اسپتال میں 5 دسمبر کو خودکش بم دھماکے پر معذرت کرلی ہے اور اس بم دھماکے کے مہلوکین کے متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی پیش کش کی ہے۔

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے عسکری کمانڈر قاسم الریمی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ''ہم اس طرح نہیں لڑتے ہیں اور ہم نے لوگوں سے ایسا کرنے کے لیے نہیں کہا تھا اور نہ یہ ہماری حکمت عملی ہے''۔انھوں نے کہا کہ جنگجوؤں کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ اسپتال یا نزدیک واقع مسجد کی جگہ کو نشانہ نہ بنائیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کا جہادی گروپ اسپتال پر حملے کی غلطی کا اعتراف کرتا ہے اور اس حملے کی مکمل ذمے داری قبول کرتا ہے۔انھوں نے حملے پر معذرت کا اظہار کرتے ہوئے خودکش بم دھماکے میں مارے گئے افراد کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کی ہے اور انھیں خونبہا دینے کی پیش کش کی ہے۔انھوں نے بم حملے میں زخمی ہونے والے شہریوں کے علاج کی بھی پیش کش کی ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ القاعدہ نے کسی خودکش بم حملے پر متاثرہ افراد سے معذرت کی ہے۔


القاعدہ کے اس کمانڈر نے عربی زبان میں اس ویڈیو میں مزید کہا ہے کہ ''شریعت ہم سے جو کوئی بھی تقاضا کرتی ہے،ہم وہ کریں گے کیونکہ ہم شریعت کے مبلغ ہیں،فراڈوں کے نہیں''۔

5دسمبر کو یمن کی وزارت دفاع کی عمارت پر خودکش بم حملے میں پچپن افراد ہلاک ہوگئے تھے۔یمن کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل نے ایک سکیورٹی کیمرے سے حاصل کردہ ویڈیو نشر کی ہے۔اس میں جنگجو اسپتال کے وارڈز اور بالکونیوں میں فائرنگ کررہے ہیں۔

اس خودکش بم حملے میں سات فلپائنی بھی مارے گئے تھے۔یمنی حکومت نے اگلے روز ہی ان سات فلپائنی باشندوں کو شہید قرار دیا ہے۔ ان سات فلپائنیوں میں ایک ڈاکٹر اور ایک نرس بھی شامل تھی۔ان کے علاوہ گیارہ اور فلپائنی زخمی ہوگئے تھے۔یہ تمام غیرملکی فوجی کمپلیکس میں واقع ایک اسپتال میں کام کرتے تھے۔فلپائن نے اس حملے کے بعد اپنے شہریوں کے یمن جانے پر پابندی عاید کردی ہے۔

القاعدہ کے جنگجوؤں نے صنعا میں وزارت دفاع کے اس کمپلیکس پر اس شبے کی بنا پر حملہ کیا تھا کہ وہاں ڈرونز کا ایک آپریشنز روم ہے اور وہیں سے امریکا اپنے بغیر پائلٹ جاسوس طیاروں کے ذریعے جنگجوؤں کے خلاف میزائل حملے کررہا ہے اور ان حملوں میں عام شہری بھی مارے جارہے ہیں۔

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے صنعا میں فوجی ہیڈکوارٹرز میں بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی تھی اور کہا تھا کہ اس نے یہ حملہ امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں کے ردعمل میں کیا تھا۔ان ڈرون حملوں میں یمنی القاعدہ کے متعدد لیڈر اور جنگجو مارے جاچکے ہیں۔

واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک نیوامریکا فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق 2003ء کے بعد سے امریکی سی آئی اے نے یمن میں 93 ڈرون حملے کیے ہیں۔ان میں 684 سے 891 کے درمیان افراد مارے گئے ہیں اور ان میں بھی 65،64 عام شہری تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں