.

ایران کے جوہری پروگرام کے بارے خبروں کی اشاعت پر پابندی

خبروں کی اشاعت متعلقہ ایجنسی کی پیشگی منظوری سے مشروط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی وزارت داخلہ کے زیر انتظام محکمہ اطلاعات وثقافت نے نجی اخبارات کو تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی توانائی ایجنسی کی خبریں اور رپورٹس شائع کرنے سے روک دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری ایک سرکلر میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی خبر شائع کرنا ضروری ہو تو اس کے لیے ایران کی جوہری توانائی ایجنسی سے پیشگی منظوری حاصل کرنا ضروری ہو گی۔

سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ جوہری پروگرام سے متعلق خبروں کی جانچ پڑتال کے بغیر اشاعت پر پابندی کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ فیصلے کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ایرانی کی قومی توانائی ایجنسی کی رو سے خبر درست ہے یا نہیں۔ نیز کیا وہ قومی سلامتی کی پالیسی کےخلاف تو نہیں ہے۔

فارسی نیوز ویب پورٹل "سخام نیوز" کے مطابق ڈائریکٹر برائے لوکل نیوز ایجنسی و نیوز پیپرز بدرام آئیین کا کہنا ہے کہ محکمہ اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی پرائیویٹ اخبارعالمی جوہری توانائی ایجنسی "آئی اے ای اے" کی ایران کے جوہری پروگرام بارے رپورٹس کے تراجم شائع نہیں کرسکے گا۔ اس ضمن میں ایران کی جوہری ایجنسی کی پیشگی اجازت ضروری ہو گی۔

خیال رہے کہ عالمی توانائی ایجنسی سے تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر مذاکرات کا اختیار بھی ایران کی جوہری توانائی ایجنسی کے پاس تھا۔ سابق حکومت نے یہ اختیار ملک کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کو سونپ دیا تھا جبکہ موجودہ صدر حسن روحانی نے مذاکرات کا اختیار وزارت خارجہ کو سونپ دیا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام بارے خبروں کی آزادانہ اشاعت پرپابندی ایک ایسے وقت میں لگائی گئی ہے جب مغرب اور ایران کے درمیان حال ہی میں ایک سمجھوتہ طے پایا ہے۔ جنیوا میں طے پائے معاہدے کے مطابق ایران یورینیم افزودگی کی مقدار میں کمی کرے گا جبکہ اس کے بدلے میں مغرب تہران پرعائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے اقتصادی تعاون بحال کرے گا۔