.

جکارتہ: ائیر پورٹ اور پروازیں افسر کی پچھاڑی کی زد میں

نشست نہ ہونے پر ضلعے کے انتظامی افسر کو ٹکٹ نہ ملی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افسرکی اگاڑی اور پچھاڑی سے بچنا انڈونیشیا کی ائیر لائن کیلیے ممکن نہ رہا۔ ناراض افسر کے غصے کے براہ راست زد میں ائیرلائن کی پروازیں ہی نہیں ائِر پورٹ بھی آ گیا اور کئی گھنٹوں کیلیے ائیر پورٹ عملا بند ہو کر رہ گیا۔ پروازوں کی لینڈنگ اور ٹیک آف کی سرگرمیاں کئی گھنٹوں تک روکنا پڑیں۔

تفصیلات کے مطابق انڈونیشیا کے مشرقی جزیرے کے ایک ضلع کے انتظامی سربراہ ماریانس سائے کو اپنی ذمہ داری والے ضلع سے اپنے گھر جانے کیلیے فلائٹ پکڑنا تھی۔ لیکن متعلقہ ائیر لائن کی تیمور جانے والی پرواز میں نشست نہ ہونے کی وجہ سے انتظامی سربراہ سے معذرت کر لی گئی۔

اسی بات نے ضلعی منتظم کو ناراض کر دیا۔ ضلعی منتظم اگرچہ پولیس کی طرح کے اختیارات حاصل نہ تھے۔ تاہم انہوں نے نشست نہ ملنے پر ''انتظامی اختیارات'' اور انتقامی جذبات بروئے کار لاتے ہوئے اپنے ماتحت عملے کے ذریعے سے موٹر کاریں ائِر پورٹ کے رن وے پر چڑھا دیں۔ جس سے جہازوں کی آمدو رفت ممکن نہ رہی۔

جکارتہ میں سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماریانس سائے نے تسلیم کیا ہے کہ یہ '' غصے کا اظہار تھا۔'' سائے کہتے ہیں '' میں پانچ گھنٹوں سے ائیر لائن سے ٹکٹ کیلیے کہہ رہا تھا لیکن مجھے کہہ دیا گیا کہ نشست نہیں ہے۔''

ناراض افسر کے حکم کے تحت رن وے پر کھڑی کی جانے والی گاڑیوں کی راہ میں ائیر پورٹ کا تمام کا تمام عملہ بے بس رہا اور کسی کو نہ روک سکا۔ یوں کئی گھنٹَے تک ائیرپورٹ عملا بند ہو کر رہ گیا۔ ائیر پورٹ پر آنے والی متعدد پروازوں کو لینڈنگ کی اجازت نہ دیتے ہوئے انہیں واپس بھجوا دیا گیا۔

انڈونیشیا کی وزارت ٹرانسپورٹ کے ترجمان کے مطابق وزارت اس واقعے پر کوئی کارروائی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی کیونکہ یہ کام وزارت ٹرانسپورٹ کا نہیں پولیس کا ہے۔