.

علامہ القرضاوی کو مصری استغاثہ نے اشتہاری قرار دے دیا

مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے مدد کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے دُہری [قطر اور مصر] شہریت رکھنے والے ممتاز عالم دین علامہ یوسف القرضاوی سمیت کئی اہم شخصیات کو جیل توڑنے میں معاونت کےالزام میں اشتہاری قرار دیا ہے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ہشام برکات کا کہنا ہے کہ "جیل حملہ" کیس میں ملوث تمام مفرور ملزمان عدالت کو مطلوب ہیں۔ مفرور ملزمان کا نام "ای سی ایل" میں شامل کرکے ان کی تلاش کا حکم دے دیا گیا ہے۔

ادھر اخبار"الوفد" کی رپورٹ کے مطابق جیل توڑنے کے دیگرملزمان میں معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی، اخوان المسلمون کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع، اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ارکان سمیت 34 دیگر افراد شامل ہیں۔

مصری عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل توڑنے کے مقدمہ کی سماعت کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس کیس میں ملوث تمام ملزمان کی گرفتاری اور ان کی عدالت میں پیشی کی کوشش کی جائے گی۔ اندرون ملک موجود ملزمان کو پولیس کے ذریعے تلاش کیا جائے گا۔ گرفتار ملزمان پہلے ہی اس کیس میں پیش ہو رہے ہیں۔ حکام کو ہدایت کردی گئی کہ وہ ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور دیگر اہم مقامات کی سخت نگرانی کریں۔ بیرون ملک سے کسی بھی ملزم کی آمد پراسے فوری حراست میں لے لیا جائے اور کسی مفرور ملزم کو بیرون ملک فرار سے روکا جائے۔ مصری عدالت نے مطلوب مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے مدد کی درخواست کی ہے۔

خیال رہے کہ پچیس جنوری سنہ دو ہزار گیارہ کو مصر میں برپا ہوئے انقلاب کے دوران باغیوں نے قاہرہ کی ایک جیل پر یلغار کر دی تھی جس کے نتیجے میں سیکڑوں قیدی فرار ہو گئے تھے۔ موجودہ مصری حکومت نے ملک کی سب سے بڑی مذہبی اور سیاسی جماعت اخوان المسلمون اور اس کی حامی حماس اور حزب اللہ پر جیل توڑنے میں مدد کا الزام عائد کر رکھا ہے۔