اخوان المسلمون باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار

منظم سیاسی ومذہبی جماعت کے زیر اہتمام ملک بھر میں مظاہروں پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کی عبوری حکومت نے باضابطہ طور پر ملک کی سب سے قدیم مذہبی وسیاسی جماعت اخوان المسلمون کو ایک دہشت گرد تنظیم قراردے دیا ہے اور اس کے زیر اہتمام ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں پر پابندی عاید کردی ہے۔

مصر کی عبوری کابینہ نے بدھ کو ایک طویل اجلاس کے بعد اخوان المسلمون کو دہشت گرد گروپ قراردینے کا فیصلہ کیا ہے۔کابینہ کے اجلاس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے وزیر حسام عیسیٰ نے کابینہ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا ہے اور بتایا کہ اخوان کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کو غیر قانونی قراردے کر ان پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔

قبل ازیں منگل کو مصر کے عبوری وزیر اعظم حازم الببلاوی نے منصورہ شہر میں ایک سکیورٹی عمارت پر خودکش بم حملے کے بعد اخوان المسلمون کو دہشت گرد گروپ قراردے دیا تھا۔اس واقعے میں چودہ افراد ہلاک اور ایک سو تیس زخمی ہوگئے تھے۔

مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا نے ببلاوی کا یہ بیان نقل کیا تھا کہ اس بم دھماکے میں ملوث افراد سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔سعودی عرب نے مصر میں دہشت گردی کے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ مصری بھائیوں کے ساتھ قلب اور ذہن کے ساتھ کھڑا ہے۔

اخوان المسلمون اور فوجی انقلاب مخالف اتحاد نے اس بم دھماکے کی مذمت کی ہے اور سابق صدر حسنی مبارک کے بدنام زمانہ سکیورٹی رجیم پر اس کا الزام عاید کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے ایک مرتبہ پھر حسنی مبارک دور کے سکیورٹی عہدے دار فعال ہوچکے ہیں تاکہ وہ دہشت گردی کی کارروائیاں کرکے اسلام پسندوں پر ان کا الزام عاید کرسکیں۔

واضح رہے کہ 2011ء میں اسکندریہ شہر میں ایک عیسائی قبطی چرچ میں بم دھماکے کا الزام حسنی مبارک کے سابق وزیر داخلہ حبیب ابراہیم العدلی پر عاید کیا گیا تھا اور مختلف رپورٹس میں انہی وزیرصاحب کو اس بم دھماکے میں ماخوذ قرار دیا گیا تھا۔

اخوان المسلمون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کی اس کارروائی کو مصری عوام کے اتحاد پر براہ راست حملہ تصور کرتی ہے اور اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے تا کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کی تشددآمیز سرگرمیوں سے اخوان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں