جنوبی سوڈان: متحارب فریق سیاسی مکالمہ شروع کریں: جان کیری

موجودہ صدر اور سابق نائب صدر نے بھی مذاکرات کا عندیہ دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جنوبی سوڈان میں جاری متحارب فورسز کی لڑائی کو ختم کرنے اور سیاسی مکالمے کے آغاز پر زور دیا ہے تا کہ انسانی جانوں اور املاک کا نقصان رک سکے۔ اس امر کا مطالبہ جان کیری نے واشنگٹن میں جاری کیے گئے ایک بیان میں ایسے موقع پر کیا ہے جب امریکی نمائندہ اصلاح احوال کیلیے پہلے ہی جنوبی سوڈان کے دارالحکومت میں موجود ہے۔

سابق نائب صدر اور موجودہ لڑائی میں سیاسی اعتبار سے اہم فریق مسٹر ماشر پہلے ہی حکومت سے مذا کرات پر اتفاق کر چکے ہیں اور اس مقصد کیلیے ایک مذاکراتی وفد بھی تشکیل دے چکے ہیں۔

دوسری جانب جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کیر نے امریکی نمائندے ڈونلڈ بوتھ سے کہہ دیا ہے کہ وہ غیر مشروط پر اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں تاکہ حالات کو سلجھایا جا سکے اور خونریزی کا خاتمہ ممکن ہو جائے۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ '' جنوبی سوڈان میں جاری بحران کے خاتمہ کیلیے امریکا تمام طبقات پر زور دیتا ہے کہ لڑائِی کے جاری سلسلے کو فوری روکنے کیلیے فوری جنگ بندی کر دیں۔''

واضح رہے امریکا جنوبی سوڈان میں جاری لڑائی کے پہلے دن سے ہی مسئلے کے حل کیلیے دلچسپی لے رہا ہے۔ اس بارے میں صدر اوباما کئی بار بیانات جاری کر چکے ہیں، جان کیری بذریعہ فون رابطوں میں ہیں جبکہ امریکی نمائندہ ڈونلڈ بوتھ جوبا میں مقیم ہے۔

ملک میں متحارب فورسز کے درمیان جاری لڑائی کے باعث اب تک چار سو امریکی شہریوں کو جنوبی سوڈان سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔ امریکا نے اپنے میرینز کے ایک یونٹ کو ہمہ وقت تیار رکھا ہے تاکہ مزید شہریوں کے انخلا کے وقت کام آ سکے۔

اقوام متحدہ کے تازہ جائزے کے مطابق ایک ہفتے سے زائد دنوں پر پھیلی اس لڑائی میں ہزاروں افراد کے مارے جا چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے جنوبی سوڈان میں اپنے امن مشن کی تعداد بڑھانے کی قرارداد بھی منظور کی ہے۔ اس قرارداد کے بعد امن مشن سے وابستہ اہلکاروں کی تعداد سات ہزار سے بڑھ کر ساڑھے بارہ ہزار ہو جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں