.

ترکی میں بدعنوانی اسکینڈل کی تحقیقات بند: پبلک پراسیکیوٹر

پولیس مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے احکامات کی تعمیل نہیں کر رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے پبلک پراسیکیوٹر معمر عکاس کا کہنا ہے کہ کابینہ کے وزراء کو اپنی زد میں لینے والے بڑے بدعنوانی اسکینڈل کی تحقیقات کا کیس ان سے واپس لے لیا گیا ہے اور انھیں کام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

عکاس نے جمعرات کو میڈیا کے لیے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''میرے تمام ساتھیوں اور عوام کو آگاہ ہونا چاہیے کہ مجھے پبلک پراسیکیوٹر کے طور پر تحقیقات کا عمل شروع کرنے سے روک دیا گیا ہے''۔

استنبول میں پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے اسی ہفتے رشوت اور بدعنوانی کے اس بڑے اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے سرکردہ کاروباری شخصیات اور حکومت کے قریب افراد سمیت تیس مشتبہ ملزموں کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے ''غیرملکی جماعتوں'' پر اس کرپشن اسکینڈل کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام عاید کیا ہے جس کا مقصد ان کی حکومت کا خاتمہ ہے۔ان کے تحت وزارت داخلہ نے استنبول میں گرفتاریوں کے بعد محکمہ پولیس میں تطہیر کی ہے اور بہت سے افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے اور ان کی ذمے داریاں حکومت کے قریبی افسروں کو سونپ دی ہیں۔

معمر عکاس نے اپنے تحریری بیان میں مزید کہا ہے کہ ''پولیس مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے ان کے احکامات کی پاسداری نہیں کررہی ہے۔پولیس فورس کے ذریعے عدلیہ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے اور عدالتی احکامات کی تعمیل میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''ایک چین آف کمان کے ذریعے جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔مشتبہ افراد کو حفظ ماتقدم کے طور پر اقدامات کرنے ،فرار ہونے یا شواہد کو مٹانے اور انھیں مسخ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے''۔معمر عکاس نے اپنے اس بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ کون ان کے کام میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے لیکن ان کے اس الزام سے حکومت کے خلاف عوام کے غیظ وغضب میں اضافہ ہوگا۔

کابینہ میں رد وبدل

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے اپنی حکومت کے لیے بدنامی کا سبب بننے والے کرپشن اور رشوت اسکینڈل کی تحقیقات کے تناظر میں تین وزراء کے استعفوں کے بعد دس نئے وزراء کی فہرست صدر عبداللہ گل کو پیش کردی ہے۔

وزیراعظم نے امور داخلہ ،اقتصادیات اور ماحول مستعفی وزراء کے علاوہ یورپی یونین سے متعلق امور ،انصاف ،ٹرانسپورٹ ،خاندانی امور ،کھیل اور صنعت کے وزیروں کو تبدیل کردیا ہے۔انھوں نے بدھ کی رات صدر عبداللہ گل سے بند کمرے کی ملاقات میں ایک نیا نائب وزیراعظم بھی نامزد کیا ہے۔

ترکی کے وزیراقتصادیات ظفر چاگلیان اور وزیرداخلہ معمر گولر نے بدھ کو مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ان دونوں وزراء کے بیٹے ان بائیس چوبیس لوگوں میں شامل ہیں جن کو اعلیٰ پیمانے پر رشوت اور کرپشن اسکینڈل میں ماخوذ کیا گیا ہے اور یہ سب مبینہ ملزمان اس وقت زیر حراست ہیں۔

ان دونوں وزراء کے بعد وزیرماحولیات ایردوآن بیرکتار بھی مستعفی ہوگئے تھےاور انھوں نے وزیراعظم ایردوآن سے بھی مطالبہ کیا تھاکہ وہ عہدہ چھوڑ دیں۔ان کے بیٹے کو بھی کرپشن کی تحقیقات کے سلسلہ میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن اس پر باضابطہ طور پر کوئی فرد الزام نہیں لگائی گئی اور اس کو رہا کر دیا گیا ہے۔

گرفتار افراد پررشوت ستانی سے متعلق مختلف الزامات لگائے گئے ہیں۔ان میں تعمیراتی منصوبوں کے لیے رشوت کی وصولی اور رقوم کے بدلے میں تعمیراتی اجازت ناموں کا حصول جیسے الزامات شامل ہیں۔ترک وزیراعظم نے کرپشن اسکینڈل پر اپنے پہلے ردعمل میں کہا کہ بدعنوانی میں ملوث افراد سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جائے گی۔

ترکی کی سیاست میں بھونچال برپا کرنے والے اس بدعنوانی اسکینڈل کی چودہ ماہ تک خفیہ طور پرتحقیقات کی جاتی رہی ہے۔حکومت نے اسی اختتام ہفتہ پر پولیس کے لیے قواعد وضوابط تبدیل کردیے ہیں۔اب پولیس افسر اپنے کمانڈنگ افسروں اور پراسیکیوٹرز کو شواہد ،تحقیقات ،گرفتاریوں اور شکایات کے بارے میں آگاہ کرنے کے پابند ہیں جبکہ صحافیوں کے پولیس اسٹیشنوں پر داخلے پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔