.

ترکی: وزراء کے استعفوں کے بعد نئی کابینہ کا اعلان

مستعفی وزیر ماحولیات کا خود وزیر اعظم ایردوآن سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے اپنی حکومت کے لیے بدنامی کا سبب بننے والے کرپشن اور رشوت اسکینڈل کی تحقیقات کے تناظر میں تین وزراء کے استعفوں کے بعد نئَے وزراء کی فہرست صدر عبداللہ گل کو پیش کردی ہے۔

ترک وزیراعظم کرپشن اسکینڈل اپنے پہلے ردعمل میں کہا ہے کہ بدعنوانی سے کوئی رورعایت نہیں برتی جائے گی لیکن فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ انھوں نے تین مستعفی وزراء کی جگہ نئے وزراء نامزد کیے ہیں یا کابینہ میں اور بھی کوئی ردوبدل کیا گیا ہے۔

قبل ازیں وزیرماحولیات ایردوآن بیرکتار بھی مستعفی ہوگئے اور انھوں نے وزیراعظم ایردوآن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عہدہ چھوڑ دیں۔وہ ترک کابینہ کے مستعفی ہونے والے تیسرے وزیرہیں اور انھوں نے پارلیمان کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔

ان سے قبل وزیراقتصادیات ظفر چاگلیان اور وزیرداخلہ معمر گولر نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ان دونوں وزراء کے بیٹے ان بائیس چوبیس لوگوں میں شامل ہیں جن کو اعلیٰ پیمانے پر رشوت اور کرپشن اسکینڈل میں ماخوذ کیا گیا ہے اور یہ سب مبینہ ملزمان اس وقت زیر حراست ہیں۔

مستعفی وزیرماحولیات بیر کتار کے بیٹے کو بھی کرپشن کی تحقیقات کے سلسلہ میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن اس پر باضابطہ طور پر کوئی فرد الزام نہیں لگائی گئی اور اس کو رہا کردیا گیا ہے۔

بیرکتار واحد مستعفی وزیرہیں جنھوں نے خود وزیراعظم رجب طیب ایردوآن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے ترکی کے ایک نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''تفتیش کی فائل میں کچھ بھی نہیں ہے لیکن اس سے مجھے صدمہ پہنچا ہے اور میں اس کی وضاحت نہیں کرسکتا''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''یہ وزیراعظم کا فطری حق ہے کہ وہ جس وزیرکو چاہیں،عہدے سے ہٹادیں لیکن میں رشوت اور کرپشن کے اسکینڈل پر کارروائی کے بعد مستعفی ہونے کے لیے دباؤ کو قبول نہیں کرسکتا۔میں اس کو اس لیے بھی قبول نہیں کرسکتا کہ جن بڑے تعمیراتی منصوبوں کی تحقیقات کی جارہی ہے،ان کی منظوری وزیراعظم ہی نے دی تھی''۔

وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے تین وزراء کے مستعفی ہونے کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں کہا کہ وہ کرپشن پر کوئی رورعایت نہیں برتیں گے۔انھوں نے بدھ کو اپنی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی( اے کے) کے صوبائی عہدے داروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''اگر حزب اختلاف کی جماعت نے تحقیقات کے دوسرے روز ہی فیصلہ سنا دینا ہے تو پھر ججوں کی کیا ضرورت ہے؟ اگر میڈیا ہی نے کوئی فیصلہ کرنا ہے تو پھر طویل قانونی طریق کار کا کیا جواز ہے؟''

انھوں نے مشتبہ افراد کے گھروں سے برآمد ہونے والے نوٹوں کے بھرے ڈبوں سے متعلق ٹی وی چینلز کی نیوز رپورٹس کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو کیسے پتا چل گیا کہ یہ رقم کن مقاصد کے لیے تھی۔انھوں نے اسی ہفتے کے دوران کم سے کم ستر پولیس اہلکاروں کی برطرفی یا ان کے از خود عہدے چھوڑنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ہاتھ صاف نہیں تھے اور ان کا کام آلودہ تھا۔

ترکی کی سیاست میں بھونچال برپا کرنے والے اس بدعنوانی اسکینڈل کی چودہ ماہ تک خفیہ طور پرتحقیقات کی جاتی رہی ہے۔حکومت نے اسی اختتام ہفتہ پر پولیس کے لیے قواعد وضوابط تبدیل کردیے ہیں۔اب پولیس افسر اپنے کمانڈنگ افسروں اور پراسیکیوٹرز کو شواہد ،تحقیقات ،گرفتاریوں اور شکایات کے بارے میں آگاہ کرنے کے پابند ہیں جبکہ صحافیوں کے پولیس اسٹیشنوں پر داخلے پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔

اخبار حریت کی رپورٹ کے مطابق وزیرداخلہ معمر گولر (اب مستعفی) نے گذشتہ ہفتے ملک بھر میں سینیر کمانڈروں سمیت ساڑھے پانچ سو پولیس اہلکاروں کو برطرف کردیا تھا۔درایں ثناء حکمراں اے کے پارٹی کے ایک رکن پارلیمان اور سابق وزیرداخلہ ادریس نعیم شاہین نے بھی اپنی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

فتح اللہ گولن سے اختلاف

بدعنوانی اسکینڈل کے بعد وزیراعظم رجب طیب ایردوآن اور امریکا میں مقیم ترک اسکالر فتح اللہ گولن کے درمیان ایک مرتبہ پھر محاذآرائی شروع ہوگئی ہے۔فتح اللہ گولن کا خیراتی ادارہ حزیمت ترکی میں بہت سے اسکول اور خیراتی ادارے چلا رہا ہے ۔ان کی تحریک کا دعویٰ ہے کہ اس کے سینیر پولیس افسروں اور ججوں سمیت کم سے کم دس لاکھ پیروکار ہیں۔

فتح اللہ گولن نے کرپشن اسکینڈل میں اپنے کسی قسم کے کردار کی تردید کی ہے۔انھوں نے کہا کہ وزیراعظم رجب طیب ایردوآن ''گمراہ کن سوچ'' کا شکار ہیں۔انھوں نے یہ بیان ایردوآن کے اس بیان کے بعد جاری کیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ان کی حکومت ایک بین الاقوامی سازش کا شکار ہوئی ہے۔

انھوں نے اپنی مذکورہ تقریر میں فتح اللہ گولن کی تنظیم کا بظاہر حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ''ہم بعض تنظیموں کو مذہب کے پردے میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ایسی تنظیمیں بعض ممالک کے آلہ کار کے طور پر ہمارے ملک میں آپریشن کو بروئے لا رہی ہیں''۔