.

ترک کرپشن اسکینڈل نے ایردوآن فیملی کو بھی لپیٹ میں لے لیا

وزیر اعظم کا صاحبزادہ بھی بدعنوانی کیس میں شامل تفتیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک حکومت میں شامل وزراء کی مبینہ بدعنوانی کے منظرعام پر آنے کے بعد وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے اپنی کابینہ میں غیرمعمولی تبدیلیاں کی ہیں مگر اس کے باوجود وہ ابھی تک کمزور وکٹ پر کھیل رہے ہیں۔

کرپشن کے میگا اسکینڈل میں وزیراعظم کے اپنے خاندان کے ملوث ہونے کی خبریں آ رہی ہیں۔ ترک میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پولیس وزیراعظم کے صاحبزادے کو بھی اس اسکینڈل میں شامل تفتیش کرنے والی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گذشتہ ہفتے منظرعام پر آنے والے اس خوفناک کرپشن اسکینڈل کے بعد وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت کو خطرات لاحق ہو گئے تھے۔ معاملہ اس وقت زیادہ پیچیدہ ہوا جب اسلام پسند وزیر اعظم ایردوآن اور ان کے حلیف مذہبی رہ نما فتح اللہ گولن کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔

وزیر اعظم نے کابینہ میں غیرمعمولی رد و بدل کر کے حکومت اور سیاست میں اٹھنے والے اس طوفان کو روکنے کی پوری کوشش کی ہے، مگر وہ ابھی تک اس میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔

جمعرات کے روز رجب طیب ایردوآن کواس وقت ایک اور دھچکا لگا جب پریس میں یہ خبریں شائع ہوئیں کہ بدعنوانی کے مشغلے میں پولیس وزیر اعظم کے ایک فرزند ارجمند سے بھی تفتیش کرنے والی ہے۔

ترکی زبان میں شائع ہونے والے کثیرالاشاعت اخبار"ملت" کے مطابق وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے اپنے صاحبزادے کو کرپشن اسکینڈل میں ماخوذ کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اپنے مقربین سے بات کرتے ہوئے ایردوآن کا کہنا تھا کہ کرپشن کے دھندے میں میرے بیٹے کو ملوث کرنا دراصل میری ذات کو ہدف بنانے کی کوشش ہے۔

ادھر اپوزیشن کے نمائندہ اخبار"جمہوریت" نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بدعنوانی کے تازہ اسکینڈل میں نوجوانوں کی تعلیم وتربیت اور ان کی فلاح بہبود کے لیے سرگرم ایک نجی تنظیم"تورگیف" کا نام بھی آ رہا ہے۔ یہ تنظیم وزیر اعظم رجب طیب ایردآن کے ایک بیٹے بلال ایردوآن کی نگرانی میں کام کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بیرون ملک تنظیموں کو "تورگیف" کے ذریعے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔