.

مسلح یمنی قبائلیوں کا وزارتِ تیل کی عمارت پر قبضہ

فوج کے انخلاء اور قبائلی سردار کی ہلاکت میں ملوّث فوجیوں کی حوالگی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوب مشرقی صوبے حضر موت میں مسلح قبائلیوں نے وزارتِ تیل کی ایک عمارت پر قبضہ کر لیا ہے اور ان کا وہاں حکومت نواز قبیلے کے افراد کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

مسلح قبائلیوں نے یہ کارروائی اسی ماہ کے آغاز میں فوج کی فائرنگ سے ایک قبائلی سردار کی ہلاکت کے ردعمل میں کی ہے۔اس قبائلی سردار اور اس کے محافظوں کو فوجیوں نے ایک چیک پوائنٹ پر روکا تھا اور ان سے اسلحہ حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن محافظوں کے ایسا کرنے سے انکار کے بعد ان کے درمیان مسلح جھڑپ ہوگئی تھی۔

قبائلی اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق وزارتِ تیل کی عمارت پر الکثیری قبائل نے قبضہ کر رکھا ہے اور انھوں نے وزارت کے ملازمین سے کہا ہے کہ وہ وہاں سے چلے جائیں۔فوری طور پر قبائلیوں کی اس کارروائی میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

قبائلی اپنے سردار سعید بن ہبریش کو قتل کرنے والے فوجیوں کو حوالے کرنے، حضر موت سے فوج کے مکمل انخلاء اور مقامی لوگوں کو مزید ملازمتیں دینے کے مطالبات کر رہے ہیں۔ اس قبائلی سردار کی ہلاکت کے بعد حضر موت اور دوسرے جنوبی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں اور مسلح افراد کی فوجیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق جمعرات کورات گئے حضرموت کے شہر ''شَہر'' میں جھڑپوں میں دو فوجی اور ایک قبائلی ہلاک ہو گیا تھا۔ گذشتہ سوموار کو وادی حضرموت میں تیل کے ایک کنویں کے نزدیک فوجی چیک پوائنٹ پر حملے میں دو فوجیوں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

وسطی صوبے مآرب کے علاقے وادی عبیدہ میں قبائلیوں نے بدھ کی رات تیل کی ایک مرکزی پائپ لائن بم دھماکے میں تباہ کردی تھی۔ یمنی حکام کا کہنا ہے کہ اس پائپ لائن کی مرمت میں کئی روز لگ سکتے ہیں۔ اس پائپ لائن کے تباہ ہونے سے مآرب کے تیل کے کنووں سے بحیرہ احمر میں راس عیسیٰ آئل ٹرمینل تک تیل کی سپلائی بند ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ یمن عرب دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے اور اس کے بجٹ کی ستر فی صد رقوم خام تیل کی برآمد سے حاصل ہوتی ہیں۔

یمن کی موجودہ حکومت سابق مطلق العنان صدر علی عبداللہ صالح کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے ملک کے جنوب مشرقی اور وسطی صوبوں میں شورش پسند قبائلیوں، جنوب میں القاعدہ کے جنگجوؤں اور شمال میں حوثی شیعہ باغیوں کی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے۔ یمن کے قبائل کی اکثریت جدید خودکار ہتھیاروں سے مسلح ہے اور وہ حکومت کے لیے آئے دن مسائل پیدا کرتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے جائز وناجائز مطالبات کو منوانے کے لیے سرکاری یا تیل کی تنصیبات پر قبضہ کرلیتے ہیں اور اس طرح حکومت ان کے مطالبات کے آگے جھکنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔