اقوام متحدہ کے امن دستے جنوبی سوڈان پہنچ گئے

تشدد پھیلنے کا خطرہ جاری ہے: حکام اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنوبی سوڈان میں قیام امن میں مدد دینے کیلیے اقوام متحدہ کے امن مشن سے وابستہ اہلکار جنوبی سوڈان پہنچ گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے یہ امن دستے متحارب فریقین کے درمیان سیز فائر اور جاری لڑائی بند نہ ہونے کی وجہ سے بھیجے ہیں۔

ان دستوں میں پولیس کے وہ 72 افسران شامل ہیں جنہیں جمہوریہ کانگو سے بھجوایا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق یہ دستے اس فیصلے کے تحت آئے ہیں جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر جنوبی سوڈان میں چھ ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کی جانا ہے۔ مزید دستے آج ہفتے کی شام تک متوقع ہیں۔

جوبا میں اقوام متحدہ کے مرکز کے حکام کے مطابق 15 دسمبر سے جاری لڑائی کے دوران تریسٹھ ہزار شہری نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ جبکہ تقریبا دوہفتوں کے دوران مارے گئے افراد کی تعداد ایک ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کی مزید نفری بھجوانے کی منظوری جمعرات کے روز دی، جس کے اگلے ہی روز امن مشن سے وابستہ کارکنوں کے دستے پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ صدر سلوا کیر اور ان کے مخالف رہنما رائک ماشر کے حامی فوجیوں کے درمیان جاری لڑائی کی وجہ سے تشدد بڑھنے کا خطرہ موجود ہے۔ خود اقوام متحدہ کے مرکز کے باہر بھی لاشیں پڑی دیکھی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں