لیبیا میں روکے چار امریکی فوجی رہا کر دیئے گئے

قذافی حکومت کے خاتمے سے ملک طوائف الملوکی کا شکار ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ لیبیا میں 'اغوا' کئے گئے چار امریکی فوجیوں کو ہفتے کے روز رہا کر دیا گیا ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی عہدیدار نے خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کو بتایا کہ چاروں امریکیوں کو رہائی مل گئی ہے۔ چاروں امریکی فوجیوں کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر لیبی حکومت نے گرفتار کر رکھا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ دفاع نے فوجیوں کے لیبیا میں روکے جانے سے متعلق مزید تفصیل ظاہر نہیں کی۔

'نیویارک ٹائمز' نے حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ گرفتار کئے جانے والے فوجی طرابلس میں امریکی سفارتخانے کی سیکیورٹی ٹیم کا حصہ تھے اور ان کی ذمہ داریوں میں امریکی سفارتکاروں کے محفوظ راستوں کی نگرانی کرنا تھا۔

سنہ دو ہزار گیارہ میں امریکا اور نیٹو کی فضائی کارروائی کے نتیجے میں معمر القذافی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے متعدد امریکی شہریوں کو لیبیا میں کئی بات نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

ستمبر دو ہزار بارہ میں لیبیا کے لئے امریکی سفیر سمیت چار امریکیوں کو لیبیا کے مشرقی شہر بنغازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے میں القاعدہ کے مشتبہ جنگجووں نے ہلاک کر دیا تھا۔

اس سال دسمبر کے اوائل میں ایک امریکی استاد کو بنغازی میں اپنے گھر کے باہر انتہا پسندوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ لیبیا کے سابق مقتول مرد آہن معمر قذافی حکومت کے خاتمے کے دو سال گذرنے کے باوجود وزیر اعظم علی زیدان لیبیا میں بدامنی بالخصوص باغی گروپوں اور ان کے زیر انتظام چلنے والی ملیشیا پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں