.

اردن: غیرت کے نام پر بہن کے قاتل دو بھائیوں کو سزائے موت

دونوں مجرموں نے گھر کے باغیچے میں بہن کا گلا گھونٹ دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے دارالحکومت عمان کی ایک فوجداری عدالت نے غیرت کے نام پر اپنی بہن کو قتل کرنے والے دو بھائیوں کو مجرم قرار دے کر سزائے موت سنا دی ہے۔

استغاثہ کے مطابق دونوں مجرموں نے جون 2013ء میں عمان کے شمال مشرق میں واقع شہر زرقا میں اپنے گھر کے باغیچے میں اپنی مطلقہ بہن کو گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا تھا۔ ان دونوں مجرموں کی عمریں 23 اور 20 سال بتائی گئی ہیں۔ان کی مقتولہ بہن کی عمر بھی بیس اور تیس سال کے درمیان تھی۔

ایک عدالتی عہدے دار کے مطابق انھوں نے اپنی بہن کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔انھیں شُبہ تھا کہ اس کا چال چلن ٹھیک نہیں تھا۔وہ ایک کنڈر گارٹن میں کام کرتی تھی۔دونوں بھائیوں نے عدالت میں یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنے خاندان کی عزت پر لگے داغ کو دھونا چاہتے تھے۔

واضح رہے کہ اردن میں قتل کی سزا موت ہے لیکن عدالتیں بالعموم غیرت کے نام پر قتل کے مجرموں کی سزائیں متاثرہ خاندان کی درخواست پر معاف یا کم کردیتی ہیں۔

لیکن گذشتہ چند برسوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ عدالت نے غیرت کے نام پر قتل کی زیادہ سے زیادہ سزا موت سنائی ہے اور مقتولہ کے خاندان نے عدالت سے رحم کی اپیل کے بجائے قاتلوں کو زیادہ سے زیادہ سزا سنانے کا مطالبہ کیا تھا۔

اردن میں ہر سال پندرہ سے بیس عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے حالانکہ حکومت ایسے جرائم پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف کریمنالوجی نے جون میں ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ''بہت سے اردنی نوجوان خاندان کی عزت کو بٹا لگانے والی بیوی، بیٹی یا بہن کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں''۔